ایک آدمی اپنی سات سال کی بیٹی کے ساتھ پیدل پنڈھر پور کی طرف سالانہ تیرتھ یاترا آشاڑھی واری پر جا رہے ہیں۔ اس تہوار کے موقع پر پوری ریاست سے آئے وارکری برادری کے ہزاروں عقیدت مند بھگوان وٹھل کے مندر میں درشن کرنے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ راستے میں وہ لاتور کے ایک گاؤں، مہیس گاؤں میں رکنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ دن ڈھلنے کے ساتھ ساتھ کیرتن کی آواز پورے ماحول میں گونجنے لگتی ہے۔ کھنجری (ڈفلی جیسا ساز) کی دھیمی آواز سن کر چھوٹی بچی اپنے والد سے وہاں لے چلنے کی ضد کرتی ہے جہاں سے کیرتن کی آواز آ رہی ہے۔
والد اس کی ضد کو ٹالنا چاہتے ہیں۔ ’’یہاں لوگ ہمارے جیسے مانگ اور مہاروں کو چھونے سے بچنا چاہتے ہیں،‘‘ وہ اپنی بیٹی کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ’’ان کی نظروں میں ہماری کوئی قیمت نہیں ہے۔ وہ ہمیں اندر نہیں داخل ہونے دیں گے۔‘‘ لیکن بچی اپنی ضد پر قائم رہتی ہے۔ آخرکار، والد کو ہی جھکنا پڑتا ہے۔ لیکن، اس کی بھی ایک شرط ہے کہ دونوں کیرتن کو دور سے کھڑے ہو کر سنیں گے۔ آواز کا پیچھا کرتے ہوئے دونوں پنڈال تک پہنچتے ہیں۔ دونوں یکسوئی سے کیرتن کے دوران مہاراج کو کھنجری بجاتے ہوئے دیکھتے رہتے ہیں۔ جلد ہی وہ چھوٹی بچی بے صبر ہو جاتی ہے۔ وہ کسی بھی شرط پر اسٹیج پر چڑھنا چاہتی ہے۔ اور، موقع پاتے ہی کسی کو بھی کچھ کہے بغیر وہ یہ کر گزرتی ہے۔
’’میں ایک بھاروڑ [ہنسی مذاق پر مبنی گیتوں کا ایک پرانا انداز، جن کی تخلیق معاشرے میں بیداری پیدا کرنے کے مقصد سے کی جاتی ہے] گانا چاہتی ہوں،‘‘ وہ اس وقت اسٹیج پر گا رہے سنت (سادھو) سے کہتی ہے۔ وہاں موجود لوگ اس کی بات سن کر حیران رہ جاتے ہیں۔ لیکن، اسٹیج پر گا رہے مہاراج اسے گانے کی اجازت دے دیتے ہیں۔ اگلے کچھ منٹوں کے لیے وہ چھوٹی بچی اسٹیج پر گویا اپنا حق جما لیتی ہے۔ سنگت کے لیے وہ دھات کے ایک برتن پر تھاپ دیتی ہے۔ گانے کے لیے اس نے ایک ایسے گیت کا انتخاب کیا ہے جسے اسٹیج پر گا رہے مہاراج نے ہی لکھا ہے۔
माझा रहाट गं साजनी
गावू चौघी जनी
माझ्या रहाटाचा कणा
मला चौघी जनी सुना
کنویں پر رہٹ ہے سجنی
آؤ چاروں گائیں مل کر جی
جیسے رہٹ کی رسی
ویسی چاروں بہوئیں میری
اُس بچی کے گانے سے متاثر ہو کر سادھو فنکار نے اسے اپنی کھنجری تحفہ میں دیتے ہوئے کہا، ’’میرا آشیرواد ہمیشہ تمہارے ساتھ ہے۔ تم ایک دن دنیا کو مسحور کروگی۔‘‘













