امیر ہو یا غریب، بچہ ہو یا بوڑھا – ہر کسی سے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ وہ اپنے جوتے اتار کر مہاراجہ کے پیر چھوئے گا۔ بہرحال، ایک دبلا اور نوجوان آدمی جب مہاراجہ کے سامنے آیا، تو اس نے اس کے سامنے جھکنے سے منع کر دیا۔ وہ نہ صرف تن کر کھڑا رہا، بلکہ اس نے پلک جھپکائے بغیر مہاراجہ کی آنکھوں میں دیکھتے رہنے کی گستاخی بھی کی۔ اس کے اس ضدی برتاؤ سے پنجاب کے جوگا گاؤں کے بوڑھے بزرگ کافی خوفزہ ہو گئے۔ اپنے مخالفین کو بے رحمی سے کچل دینے کے لیے بدنام مہاراجہ یہ دیکھ کر غصے سے سرخ ہو گیا۔
یہ نوجوان جاگیر سنگھ جوگا تھا۔ تاریخ ان کی اس شجاعت آمیز انفرادی مزاحمت کا گواہ – سنٹرل انڈسٹریل سیکورٹی فورس (سی آئی ایس ایف) کی کانسٹیبل کلوندر کور کے ذریعے بالی ووڈ ہستی اور اب ہماچل پردیش کے منڈی سے نومنتخب رکن پارلیمنٹ کنگنا رنوت کو طمانچہ مارے جانے کے واقعہ سے تقریباً نو دہائی قبل بن چکا تھا۔ جوگا کا غصہ پٹیالہ کے مہاراجہ بھوپندر سنگھ کے خلاف تھا، جن کے نمائندے جاگیرداروں نے غریب کسانوں کی زمینیں ہڑپنے کی کوشش کی تھی۔ یہ ۱۹۳۰ کی دہائی کی بات ہے۔ اس کے بعد کیا ہوا، یہ بات مقامی ادب اور تاریخ کے صفحات میں کہیں گم ہو گئی۔ لیکن جوگا اس کے بعد بھی جدوجہد کرنے کے لیے زندہ رہے۔
تقریباً ایک دہائی کے بعد، جوگا اور لال پارٹی کے ان کے ساتھیوں نے کشن گڑھ (موجودہ سنگرور ضلع) میں ایک تاریخی جدوجہد کی شروعات کی اور بھوپندر سنگھ کے بیٹے سے ۷۸۴ گاؤوں کی ہزاروں ایکڑ زمینیں چھین کر انہیں دوبارہ بے زمینوں میں تقسیم کر دیں۔ پٹیالہ کے سابق شاہی گھرانے کے وارث اور پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ کیپٹن امرندر سنگھ اسی بھوپندر سنگھ کے پوتے ہیں۔
زمین سے متعلق لڑائی اور دوسری تحریکوں کے سبب جوگا ۱۹۵۴ میں نابھا جیل میں تھے۔ جیل میں رہتے ہوئے ہی عوام نے ان کو ریاستی اسمبلی کے لیے منتخب کیا۔ وہ ۱۹۶۲، ۱۹۶۷ اور ۱۹۷۲ میں رکن اسمبلی منتخب کیے گئے۔












