دن کا سورج غروب ہونے لگا ہے اور نول گہوان گاؤں کے نوجوان اور عمر دراز لوگ اسکول کے کھیل کے میدان کی جانب روانہ ہو چکے ہیں۔ وہاں پہنچ کر وہ میدان کو صاف کرتے ہیں، ڈھیلا پتھر اور کوڑا کچرا ہٹاتے ہیں، چونے سے لائن کھینچتے ہیں اور روشنی کے لیے لائٹ چیک کرتے ہیں۔
آٹھ سے ۱۶ سال کی عمر کے بچے جلد ہی نیلی جرسی میں تیار نظر آنے لگتے ہیں، اور سات سات کھلاڑیوں کی ٹیم میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔
کبڈی! کبڈی! کبڈی!
کھیل شروع ہو جاتا ہے اور ڈھلتی شام اور دبے پاؤں آتی رات کے پہر، مراٹھواڑہ کے ہنگولی ضلع میں اس زوردار کھیل کے کھلاڑیوں کی تیز چیخیں ہواؤں میں تیرتی ہیں، اور ان کے اہل خانہ اور دوست انہیں دیکھتے ہیں۔
اپنی سانس روک کر، ایک کھلاڑی مخالف ٹیم کے حصے میں داخل ہوتا ہے اور اپنی ٹیم کی طرف لوٹنے سے پہلے جتنا ممکن ہو اتنے کھلاڑیوں کو چھونے اور کھیل سے آؤٹ (باہر) کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جب تک وہ اپنے حصے میں واپس نہیں آ جاتا، تب تک ’کبڈی، کبڈی‘ بولنا نہیں چھوڑ سکتا۔ اگر اسے مخالف ٹیم کے ذریعہ پکڑ لیا جاتا ہے، تو وہ کھیل سے باہر ہو جاتا ہے۔












