کیکووے-اُو نے چھوٹی عمر میں اپنی ماں اور دادی کو بچھوا بوٹی یا تھیوو کے چھالوں سے بُنائی کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ وہ اپنی ماں کے ذریعہ ادھورا چھوڑے ہوئے ٹکڑے کو اٹھا کر خود مشق کرنے لگتی تھیں۔ لیکن انہیں یہ کام رازداری میں کرنا پڑتا تھا، کیونکہ ان کی ماں نے ادھورے ٹکڑے کو ہاتھ لگانے سے انہیں سختی سے منع کیا ہوتا تھا۔ اس طرح کیکووے-اُو نے رازدارانہ طور پر آہستہ آہستہ ناگا شالوں کو بُننے کا ہنر سیکھ لیا، وہ بتاتی ہیں۔
آج، وہ ایک ماہر دستکار ہیں، جو کاشتکاری اور گھریلو کام کے درمیان بُنائی کے لیے وقت نکال لیتی ہیں۔ ’’چاول پکانے کے لیے پانی کے ابلنے کا انتظار کرتے ہوئے، یا اگر کوئی ہمارے بچوں کو سیر کے لیے لے جاتا ہے، تو ہم اتنا بُننے کی کوشش کرتے ہیں،‘‘ وہ اپنی شہادت کی انگلی کی لمبائی کا اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہیں۔
کیکووے-اُو اپنے دو پڑوسیوں – ویہوسُولُو اور ایزیے ہیلو چٹسو – کے ساتھ رُکیزو کالونی میں واقع اپنے ٹین کی چھت والے گھر میں بیٹھی ہیں۔ کیکووے-اُو کے اندازہ کے مطابق، ناگالینڈ کے پھیک ضلع کے پُھتسیرو گاؤں کے ۲۶۶ کنبوں میں سے تقریباً ۱۱ فیصد لوگ بُنائی کا کام کرتے ہیں۔ یہ کام زیادہ تر چکھیسانگ برادری کے ذیلی گروپ کُوزامی سے تعلق رکھنے والی خواتین (جو درج فہرست قبائل کے طور پر درج ہیں) کرتی ہیں۔ ’’ہمارے شوہر مدد کرتے ہیں،‘‘ کیکووے-اُو کہتی ہیں، ’’وہ کھانا بھی پکا سکتے ہیں، لیکن وہ خواتین کی طرح ’ماہر‘ نہیں ہیں۔ ہمیں کھانا پکانا، کاشتکاری کرنا، بُنائی کرنا اور دوسرے کام کرنے پڑتے ہیں۔‘‘




















