بنگلور کے ایک پرائیویٹ اسکول میں پاری پر مبنی پیشکش کے دوران ایک متجسس طالب علم ہم سے سوال کرتا ہے، ’’غیر برابری میں برائی کیا ہے؟‘‘
پھر پورے اعتماد کے ساتھ اپنی دلیل پیش کرتا ہے، ’’پنساری کی دکان کے مالک کے پاس چھوٹا سا اسٹور ہوتا ہے اور امبانی کے پاس اپنا بڑا کاروبار ہے کیوں کہ وہ کڑی محنت کر رہے ہیں۔ جو لوگ کڑی محنت کرتے ہیں وہ ضرور کامیاب ہوتے ہیں۔‘‘
تعلیم، حفظان صحت اور انصاف تک غیر مساوی رسائی پر پاری کی ایک اسٹوری سے اس قسم کی جگہوں پر ’کامیابی‘ کے نئے معنی تلاش کرنے کے متعدد امکانات ہیں۔ ہم کلاس روم میں ان موضوعات کے قریب جاتے ہیں، تاکہ کھیتوں، جنگلات اور شہروں کے اندھیرے علاقوں میں کام کرنے والے محنت کش لوگوں کی زندگی کو دوسروں کے ساتھ شیئر کر سکیں۔
تعلیم سے متعلق ہمارا کام پاری کے صحافیوں کی تحریر کو کلاس روم کے اندر لے جا کر نوجوان طلباء کو ہمارے دور کے اہم مسائل سے متعارف کرانا ہے۔ اپنی اسٹوریز، تصاویر، فلموں، موسیقی اور آرٹ کے مجموعہ کے ذریعے ہم دیہی اور شہری ہندوستان کے اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں ان کے لیے زندگی کی مختلف حقیقتوں کو پیش کرتے ہیں۔
چنئی ہائی اسکول کے ارنو جیسے طلباء اعتراف کرتے ہیں، ’’ہم انہیں [ان کے سماجی و اقتصادی گروپ سے نیچے کے لوگ] اعداد و شمار کی طرح دیکھتے ہیں، نہ کہ حقیقی انسان کی طرح، جو حالات کو ٹھیک ایسے ہی دیکھتے ہیں جیسے کہ ہم دیکھتے ہیں۔‘‘












