ان سب کی شروعات کاغذ کے ایک ٹکڑے اور ایک اجنبی انسان کے سوال سے ہوئی تھی۔
کملیش ڈانڈولیا، جو تب ۱۲ سال کے تھے، راتیڑ گاؤں میں اپنے گھر کے قریب سیاحوں کے ایک گیسٹ ہاؤس کے پاس گھوم رہے تھے، تبھی ان کی نظر ایک پردیسی پر پڑی۔ ’’اس نے پوچھا کہ کیا میں بھاریا جانتا ہوں۔‘‘ اس سے پہلے کہ کملیش جواب دے پاتے، ’’اُس آدمی نے مجھے ایک کاغذ پکڑا دیا اور پڑھنے کو کہا۔‘‘
وہ اجنبی انسان موقع کا فائدہ اٹھا رہا تھا – یہاں تامیا بلاک کی پاتال کوٹ وادی میں بھاریا برادری کے تمام لوگ رہتے ہیں، جو مدھیہ پردیش میں خاص طور سے کمزور درج فہرست قبائلی گروہ (پی وی ٹی جی) کے طور پر درج ہے۔ کملیش، بھاریا برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور برادری کی زبان – بھریاٹی پوری روانی سے بول لیتے تھے۔
چھوٹی عمر کے لڑکے نے خود اعتمادی کے ساتھ کاغذ کو پڑھنا شروع کیا۔ اس میں ان کی برادری کے بارے میں عام معلومات لکھی ہوئی تھیں۔ اور چونکہ رسم الخط دیوناگری تھا، ’’مجھے یہ آسان لگا۔‘‘ دوسرے حصہ میں، جس میں سامانوں کے نام لکھے تھے، کملیش لڑکھڑانے لگے۔ ’’الفاظ تو یقیناً بھریاٹی میں لکھے ہوئے تھے،‘‘ وہ یاد کرتے ہیں، ’’ان کی آواز میں جانتا تھا، لیکن الفاظ اجنبی سنائی دے رہے تھے۔‘‘
وہ ایک منٹ کے لیے رکتے ہیں اور یادداشت پر زور دیتے ہیں، تاکہ کچھ یاد کر سکیں۔ ’’کوئی ایک لفظ تھا، جو کسی جنگلی جڑی بوٹی [ادویاتی پودے] کا نام تھا۔ کاش میں نے اسے لکھ لیا ہوتا،‘‘ وہ افسردگی میں اپنا سر ہلاتے ہوئے کہتے ہیں۔ ’’اب مجھے وہ لفظ یا اس کا معنی یاد نہیں آ رہا ہے۔‘‘
اس مشکل نے کملیش کو سوچنے پر مجبور کر دیا: ’’میں نے سوچا کہ بھریاٹی کے اور کتنے لفظ ہوں گے جو مجھے نہیں آتے۔‘‘ وہ جانتے تھے کہ انہیں روانی سے بھریاٹی آتی ہے – وہ اپنے دادا دادی سے بھریاٹی میں بات کرتے بڑے ہوئے تھے، جنہوں نے ان کی پرورش کی تھی۔ ’’نوعمری تک میں صرف یہی زبان بولنا جانتا تھا۔ مجھے اب بھی روانی کے ساتھ ہندی بولنے میں پریشانی ہوتی ہے،‘‘ وہ ہنستے ہوئے کہتے ہیں۔





















