’’دو دن پہلے ہم سبھی نے اپنے مسلز (پٹھوں) کی تصویریں لی تھیں۔ میرے پاس تو سکس پیک ایبس ہیں، بغیر ورزش کیے، اور شہباز کے بائی سیپس دیکھئے!‘‘ نوجوان عادل اپنے رفیق کار کی جانب ہنستے ہوئے اشارہ کرتے ہیں۔
محمد عادل اور شہباز انصاری میرٹھ کے جِم اور فٹنس کے ساز و سامان کی صنعت میں کام کرتے ہیں اور ایک دن میں اس سے کہیں زیادہ وزن اٹھا لیتے ہیں، جتنا جِم جانے والے ایک ہفتہ میں اٹھاتے ہیں۔ یہ وزن اٹھانا ان کے لیے فٹنس کا کوئی ٹارگیٹ پورا کرنے جیسا نہیں ہے، بلکہ اتر پردیش کے میرٹھ شہر میں مسلم خاندانوں کے نوجوان لڑکوں کے لیے روزی روٹی کا ذریعہ ہے۔ دراصل، مغربی اتر پردیش کا یہ ضلع کھیل کے سامان بنانے کا مرکز ہے۔
صنعت کار محمد ثاقب کہتے ہیں، ’’ابھی کچھ دن پہلے، لڑکے اپنی بائی سیپس اور ایبس [پیٹ کے پٹھوں] کے موازنہ کے لیے فوٹو کھینچ رہے تھے۔‘‘ ثاقب (۳۰) سورج کنڈ روڈ پر فیملی کے ذریعہ کرایے پر لیے گئے جِم کے ساز و سامان والے شو روم میں کاؤنٹر پر بیٹھے ہیں۔ سورج کنڈ روڈ پر ایک کلومیٹر کا علاقہ میرٹھ میں کھیلوں کے ساز و سامان کے بازار کا مرکز ہے۔
وہ مزید کہتے ہیں، ’’گھروں میں استعمال کیے جانے والے عام ڈمبل سے لے کر پیشہ ور کھلاڑیوں کے ذریعہ استعمال کیے جانے والے جِم کے سیٹ اپ تک، آج کل سبھی کو جم اور فٹنس ایکوئپمنٹ چاہیے۔‘‘
جب ہم بات کر رہے تھے، تب لوہے کی چھڑوں اور پائپوں کے علاوہ ہوم جِم اور لوہے کی سلاخوں جیسے تیار مال سے لدی تین پہیے والی کئی الیکٹرک گاڑیاں (مقامی لوگ انہیں مِنی میٹرو کہتے ہیں) اس مصروف سڑک سے گزریں۔ ثاقب شو روم کے شیشے کے دروازے سے اس آمد و رفت کو دیکھتے ہوئے کہتے ہیں، ’’جِم مشین کئی حصوں میں بنتی ہے اور پھر اسیمبل کی جاتی ہے۔‘‘





















