ستیہ پریہ کے بارے میں اس رپورٹ کی شروعات کرنے سے پہلے میں اپنی پیری امّاں کے بارے میں بتانا چاہوں گا۔ جب میں صرف ۱۲ سال کا تھا اور کلاس ۶ میں پڑھتا تھا، تب میں اپنے پیری اپّا اور پیری امّاں [والد کے بھائی اور ان کی بیوی] کے گھر میں رہتا تھا۔ میں انہیں امّاں اور اپّا [والدہ اور والد] ہی کہتا تھا۔ وہ میری دیکھ بھال اچھی طرح سے کرتے تھے اور میری فیملی اکثر ہماری چھٹیوں میں ان کے گھر آتی جاتی رہتی تھی۔
پیری امّاں [چچی] میری زندگی میں ایک اہم مقام رکھتی تھیں۔ وہ ہماری ضروریات کا پورا خیال رکھتی تھیں، ہمیں دن بھر کچھ نہ کچھ کھلاتی رہتی تھیں، اور وہ بھی بالکل وقت پر۔ جب میں نے اسکول میں انگریزی سیکھنا شروع کیا، تو میری چچی ہی مجھے بنیادی چیزیں پڑھاتی تھیں۔ وہ باورچی خانہ میں کام کرتی رہتی تھیں اور میں اپنے سوالوں کے ساتھ ان کے پاس جاتا رہتا تھا۔ مجھے بہت سارے الفاظ کو صحیح تلفظ کے ساتھ ادا کرنا نہیں آتا تھا، لیکن انہوں نے مجھے دھیرے دھیرے وہ سب سکھایا۔ تب سے ہی میں ان کو بہت پسند کرتا تھا۔
جب بریسٹ کینسر سے ان کی موت ہو گئی، تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ زندگی جینے سے پہلے ہی موت نے ان کو اپنے پاس بلا لیا۔ میں ان کے بارے میں بہت کچھ کہہ سکتا ہوں، لیکن فی الحال اتنا ہی۔

















