بلا وجہ ہی مجھ پر ہاتھ اٹھاتا ہے
اپنے من میں شک کے بیج بوتا ہے
میری خواہ کوئی غلطی نہ ہو مگر
چرواہا سردار مجھے تو پیٹتا ہے
لوک گیت کے یہ ابتدائی اشعار یقینی طور پر کافی چونکانے والے ہیں۔ لیکن، جس طرح سے یہ اشعار کچھ اور نہیں، بلکہ ایک تلخ حقیقت کو بیان کرتے ہیں، وہ اس سے زیادہ چونکانے والی بات ہے۔ گجرات کے کچھّ علاقہ میں یہ ایک عام بات ہے، جہاں سے اس لوک گیت کی ابتدا ہوئی ہے۔
شریک حیات کے ساتھ تشدد، جس میں بیوی کے ساتھ مار پیٹ جیسے گھناؤنے کام شامل ہیں، پہلے ہی ایک عالمی سطح کا مسئلہ ہے۔ خواتین کے ساتھ حقوق انسانی کی خلاف ورزی کے طور پر بھی اور صحت عامہ کے معاملے میں بھی۔ خواتین کے خلاف تشدد کے بارے میں اقوام متحدہ کے عالمی اعدادوشمار یہ بتاتے ہیں کہ ہر تین میں سے ایک عورت اپنے شریک حیات کے ذریعہ کسی نہ کسی طور پر جسمانی اور جنسی تشدد کا سامنا کرتی ہے۔
کیا ایک شوہر کے ذریعہ اپنی بیوی کو مارنے پیٹنے کو صحیح ٹھہرایا جا سکتا ہے؟
قومی خاندانی اور صحت سے متعلق سروے، ۲۰۱۹-۲۰۲۱ (این ایف ایچ ایس۔۵) کے مطابق، گجرات میں ۳۰ فیصد سے زیادہ خواتین اور ۲۸ فیصد سے زیادہ مردوں نے اس سوال کا جواب ’ہاں‘ میں دیا۔ سروے میں شریک ہونے والے لوگوں نے کن وجوہات سے بیوی کے ساتھ مار پیٹ کو صحیح مانا؟ ان میں کئی اسباب شامل تھے: جیسے بیوفائی کا شک، جھگڑالو برتاؤ، جنسی تعلق قائم کرنے سے منع کرنا، شوہر کو بغیر بتائے گھر سے باہر جانا، گھر کی اندیکھی اور اچھا کھانا نہ بنانا۔
شماریاتی قومی سروے کی طرح، لیکن تھوڑے دلچسپ انداز میں لوک گیت بھی اکثر معاشرے کا نفسیاتی تجزیہ پیش کرتے ہیں، جو خواتین کی مجموعی حالت سے لے کر ان کی حقیقی دنیا کے سچ کو اجاگر کرتے ہیں۔ یعنی کس طرح سے معاشرہ خواتین کے اندرونی جذبات کو پیچیدہ طریقے سے متاثر کرتے ہیں، جو ان لوک گیتوں کے ذریعہ ہمارے سامنے آتے ہیں۔
ہو سکتا ہے کہ آپ ان لوک گیتوں کو متاثرین کی مضبوط آواز کے طور پر نہ پہچانیں۔ اس بارے میں آپ کی اپنی سمجھ ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، یہاں پیش کیے جا رہے اس لوک گیت میں یہ واضح نہیں ہے کہ عورت عشقیہ گیت کے بہانے اپنے شوہر کے ذریعہ کیے جانے والے تشدد کی مذمت کر رہی ہے یا اپنے استحصال میں خود حصہ لے کر روایت پر عمل کر رہی ہے۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ جب وہ اپنے شوہر کو ’’مالا دھاری رانو‘‘ (چرواہوں کا سردار) کہہ کر مخاطب کرتی ہے، تو اصل میں وہ اپنے پر تشدد شوہر کے خلاف کوئی خفیہ بغاوت کر رہی ہے یا نہیں۔
اس لوک گیت میں شاید خواتین کو انصاف دلانے یا قائم نظام کو چیلنج کرنے کی استطاعت نہیں ہے۔ لیکن ایسے گیت انہیں یہ موقع دیتے ہیں کہ وہ ان گیتوں کے ذریعہ اپنی روزمرہ کی زندگی سے متعلق مشکل حقائق کو آواز دے سکیں۔ ان گیتوں میں جس وضاحت کے ساتھ طاقتور جذبات کو آواز دی گئی ہے اس کی مترنم روانی میں عورتیں اپنے ذہن و دل کی گہرائی میں موجود درد کو کچھ دیر کے لیے بھول سکتی ہیں جسے وہ شاید ہی کسی سے شیئر کر سکتی ہیں۔ شاید ان گیتوں سے وابستہ جانی پہچانی نغمگی سے ملنے والی راحت اور گرمجوشی کا نتیجہ ہے کہ عورتیں اپنی زندگی کی ناقابل برداشت تکلیفوں کو الفاظ میں پرو کر ایک ایسے معاشرہ میں مزید ایک دن جی لینے کی طاقت جُٹاتی ہیں جہاں بنیادی سطح پر انہیں نہ کے برابر تعاون ملتا ہے۔


