’’شام کو، تمام جانور یہیں آرام کرنے کے لیے آتے ہیں۔ یہ برگد کا درخت ہے۔‘‘
سریش دھروے پوسٹر سائز کے ایک کاغذ پر پوری مہارت سے پینٹ کرتے ہوئے ہم سے بات کر رہے ہیں۔ ’’یہ پیپل کا درخت ہے اور ابھی مزید پرندے آ کر یہاں بیٹھیں گے،‘‘ وہ اس بڑے درخت کی مزید شاخیں بناتے ہوئے پاری کو بتاتے ہیں۔
گونڈ فنکار سریش (۴۹) مدھیہ پردیش کے بھوپال میں اپنے گھر کے اندر فرش پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ مکان کی اوپری منزل کے اس کمرے میں دروازے اور کھڑکیوں سے پاس ہی کے ایک درخت سے چھن کر روشنی اندر آ رہی ہے۔ زمین پر ہی ان کے بغل میں سبز رنگ کے پینٹ سے بھرا ایک چھوٹا جار رکھا ہوا ہے، جس میں وہ بار بار اپنے برش کو ڈبوتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’پہلے ہم برش کے طور پر بانس کی چھڑی اور گلہری کے بال کا استعمال کرتے تھے۔ اب اس [گلہری کے بال] پر پابندی ہے، جو کہ اچھی بات ہے۔ اس لیے اب ہم پلاسٹک کے برش استعمال کرتے ہیں۔‘‘
سریش کہتے ہیں کہ ان کی پینٹنگز کہانیاں بیان کرتی ہیں اور ’’جب میں پینٹنگ کرتا ہوں، تو مجھے دیر تک یہ سوچنا پڑتا ہے کہ کیا بناؤں۔ مان لیجئے کہ دیوالی آ رہی ہے، تو مجھے اس تہوار سے جڑی بہت سی چیزوں جیسے گائے اور دیوں کے بارے میں سوچنا پڑے گا۔‘‘ گونڈ فنکار اپنے آرٹ میں جانداروں، جنگل اور آسمان، قدیم اور مقامی کہانیوں، کاشتکاری اور سماجی تانے بانے کو بیان کرتے ہیں۔






