سنگھ اُس ٹریول ایجنٹ کے بارے میں سوچ کر آج بھی کانپ اٹھتے ہیں، جو پنجاب میں ان کے ہی پنڈ (گاؤں) سے ہے۔
اُس ایجنٹ کے پیسے ادا کرنے کے لیے سنگھ (تبدیل شدہ نام) نے اپنی فیملی کی ایک ایکڑ زمین فروخت کر دی۔ بدلے میں ایجنٹ جتندر نے ’’ایک نمبر [قانونی]‘‘ طریقہ کار کا وعدہ کیا، جس کی مدد سے وہ سربیا کے راستے، بغیر کسی مشکل کے بحفاظت پرتگال پہنچنے والے تھے۔
بہت جلد سنگھ کی سمجھ میں یہ بات آ گئی کہ جتندر نے ان کے ساتھ دھوکہ دہی کی ہے اور انہیں بین الاقوامی سرحدوں کے پار غیر قانونی طریقے سے بھیجا تھا۔ صدمہ کے سبب سنگھ کے لیے گاؤں میں رہنے والے اپنے اہل خانہ کو سچ بتا پانا مشکل تھا کہ انہیں ٹھگ لیا گیا ہے۔
اپنے اس خطرناک سفر میں انہوں نے گھنے جنگل اور گندے ندی نالے پارے کیے، یوروپ کے مشکل پہاڑوں کی چڑھائی کی۔ انہوں نے اور ان کے مہاجر ساتھیوں نے برساتی گڑھوں کا پانی پی کر اپنی جان بچائی۔ ان کے پاس کھانے کے نام پر بس بریڈ کے کچھ ٹکڑے تھے جو انہیں بالکل پسند نہیں تھا۔
’’میرے فادر ساب ہارٹ پیشنٹ ہا۔ اِنّا ٹنشن او لے نی سکدے۔ نالے، گھر میں جا نہیں سکدا کیوں کے میں سارا کچھ داؤ تے لاکے آیا سی۔ [میرے والد دل کے مریض ہیں؛ وہ اتنا ٹنشن برداشت نہیں کر سکتے۔ میں گھر نہیں لوٹ سکتا، کیوں کہ یہاں آنے کے لیے میں نے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا ہے]۔‘‘ ۲۵ سال کے سنگھ بتاتے ہیں۔ وہ پنجابی میں بولتے ہیں اور پرتگال میں دو کمرے کی ایک جگہ میں رہتے ہیں جہاں ان کے ساتھ پانچ دیگر لوگ بھی رہتے ہیں۔
پچھلے کچھ سالوں میں پرتگال جنوبی ایشیائی ممالک، مثلاً ہندوستان، نیپال، بنگلہ دیش، پاکستان اور شری لنکا سے کام کی تلاش میں آئے لوگوں کے لیے سب سے پسندیدہ منزل کے طور پر ابھرا ہے۔








