زمین پربیٹھی ہوئی نِشاء اپنے ہاتھوں سے پنکھا جھل رہی ہیں۔ جون کی گرم دوپہر کی وجہ سے زمین تپ رہی ہے۔ تمباکو اور اس کے سوکھے پتوں کی بُو فضا کو بوجھل بنا رہی ہے۔ تقریباً ۷۰۰ بیڑوں سے ۱۷ عدد کے حساب سے بنائے گئے ہر ایک بنڈل کو دکھاتے ہوئے وہ کہتی ہیں، ’’میں اس ہفتہ صرف اتنی ہی بیڑیاں بنا سکی۔ ان کی اجرت شاید ۱۰۰ روپے سے بھی کم ہوگی۔‘‘ نشاء (۳۲) اپنے پورے ہفتہ کے کام کے بارے میں بتاتی ہیں۔ مدھیہ پردیش کے دموہ ضلع میں ایک ہزار بیڑی بنانے کی اجرت محض ۱۵۰ روپے ہے۔
ہر بدھ اور جمعہ کے روز بیڑی بنانے والی یہ خواتین اپنی بنائی ہوئی بیڑیاں لاتی ہیں، اور اگلے ہفتے تک بیڑی بنانے کے لیے خام مال لے جاتی ہیں۔ دموہ شہر کے مضافات میں کئی کارخانے ہیں، جہاں ٹھیکیداروں کو ملازمت پر رکھا گیا ہے، جو بنیادی طور پر بیڑی بنانے والی ان خواتین سے ٹھیکہ پر کام کراتے ہیں۔
خواتین یہاں سے خام مال اٹھائیں گی اور کٹے ہوئے تمباکو کے ساتھ تیندو کے پتوں کو گھما کر اور باریک دھاگوں سے بیڑیوں کے صاف کٹّوں (بنڈلوں) میں باندھ کر کام کریں گی۔ یہ کام وہ گھریلو کام مکمل کرنے کے بعد کرتی ہیں، تاکہ ان کی اوسط ماہانہ گھریلو آمدنی میں تقریباً ۱۰ سے ۲۰ ہزار روپے کا اضافہ ہو سکے۔ ان کے ذمہ ۱۰-۸ لوگوں پر مشتمل خاندان کی کفالت ہے۔ ان میں سے زیادہ تر خواتین زرعی مزدور ہیں یا ان کے پاس چھوٹے موٹے کاروبار ہیں۔
نشاء بتاتی ہیں، ’’تیندو کے خشک پتوں کو اس وقت تک پانی میں بھگونے کی ضرورت ہوتی ہے، جب تک کہ پتوں کے نشانات واضح نہ ہو جائیں۔ پھر، فرما [لوہے کی اسٹینسل] کا استعمال کرتے ہوئے پتوں کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹا جاتا ہے۔ زردہ [ذائقہ دار تمباکو] کو ان کے اندر ڈالا جاتا ہے اور پھر پتوں کو بیڑی میں لپیٹ دیا جاتا ہے۔‘‘ ہر ایک کو رنگین دھاگے سے بھی باندھا جاتا ہے، تاکہ اس کے برانڈ اور کمپنی کا پتہ چل سکے۔
اس کے بعد انہیں بیچنے کے لیے بیڑی ’فیکٹری‘ لایا جاتا ہے۔ جس جگہ بیڑی کے برانڈ کی پروسیسنگ اور پیکیجنگ ہوتی ہے اور جہاں بیڑیوں کا ذخیرہ کیا جاتا ہے، اس جگہ کو ’فیکٹری‘ کہتے ہیں۔ بیڑی بنانے والی خواتین اپنا کام مکمل کرنے کے بعد تیارہ شدہ بیڑیاں ٹھیکیداروں کے حوالے کر دیتی ہیں، جو انہیں فیکٹری لے جا کر ان کی اجرت دلواتے ہیں یا پھر خود ہی ان خواتین کو رقم ادا کر دیتے ہیں۔









