مہندرا کی ڈھلائی کے لیے خاص طور پر تیار کی گئی گاڑی – ایم آئی ایچ ۳۴ اے بی ۶۸۸۰ – ایک گاؤں کے مصروف چوراہے پر رکتی ہے، جو ۲۹۲۰ میگاواٹ والے سپر تھرمل پاور اسٹیشن، کوئلہ دھلائی کے کارخانہ، راکھ کے ڈھیر اور ٹیلوں اور چندر پور کے سرحدی علاقوں کے جھاڑی دار جنگل کے درمیان واقع ہے۔
گاڑی کے دونوں طرف رنگ برنگے اور خوبصورت پوسٹر چپکے ہوئے ہیں، جن پر تصویریں بنی ہیں اور نعرے لکھے ہوئے ہیں۔ سال ۲۰۲۳ کے اکتوبر ماہ کی ابتدا میں، ایک اتوار کی یہ ایک سُست صبح ہے، اور گاڑی پر چسپاں ان پوسٹروں نے بچوں کے علاوہ عورتوں اور مردوں کو بھی اپنی جانب متوجہ کیا ہے۔ وہ سب کے سب لپک کر گاڑی کی طرف یہ دیکھنے کے لیے بڑھتے ہیں کہ کون آیا ہے۔
گاڑی سے وٹھل بدکھل باہر نکلتے ہیں۔ پیشہ سے وہ ایک ڈرائیور اور ہیلپر ہیں۔ ستر سال سے زیادہ عمر کے ہو چکے اس بزرگ نے اپنے دائیں ہاتھ میں ایک مائیکروفون اور بائیں ہاتھ میں ایک بھورے رنگ کی ڈائری پکڑی ہوئی ہے۔ ان کے جسم پر ایک سفید دھوتی، سفید کرتا اور سر پر ایک نہرو ٹوپی ہے۔ وہ مائیک پر بولنا شروع کرتے ہیں، جس کا تار گاڑی کے اگلے دروازے پر بندھے لاؤڈ اسپیکر سے جڑا ہے۔
وہ یہاں آنے کی وجہ بتاتے ہیں۔ ان کی آواز ۵۰۰۰ کی آبادی والے اس گاؤں کے کونے کونے تک پہنچ رہی ہے۔ یہاں زیادہ تر لوگ کسان اور پاس کی کوئلہ کانوں یا دیگر چھوٹی موٹی صنعتوں میں دہاڑی مزدوری کرنے والے لوگ ہیں۔ ان کا بولنا پانچ منٹ تک چلتا رہتا ہے اور جیسے ہی وہ اپنی بات مکمل کرتے ہیں، گاؤں کے دو بزرگ مسکراتے ہوئے ان کا استقبال کرتے ہیں۔
’’ارے ماما، نمسکار۔ یا بسا [ارے ماما! آپ کا استقبال ہے۔ آئیے، یہاں بیھٹئے،‘‘ ۶۵ سال کے کسان ہیم راج مہادیو دِوسے کہتے ہیں، جو گاؤں کے مرکزی چوراہے پر پنساری کی ایک چھوٹی سی دکان چلاتے ہیں۔
’’نمسکار جی،‘‘ بدکھل ماما ہاتھ جوڑتے ہوئے جواب دیتے ہیں۔


















