’’ایک دن میں بھی ہندوستان کے لیے اولمپکس میں میڈل جیتنا چاہتی ہوں،‘‘ اسپورٹس اکیڈمی کے قریب سے گزرنے والی تار کول کی سڑک پر طویل مشق کے بعد اپنی سانسیں درست کرتی ہوئی وہ کہتی ہے۔ اس کے تھکے اور زخم خوردہ ننگے پاؤں چار گھنٹے کی سخت ٹریننگ کے بعد بالآخر زمین پر رک گئے ہیں۔
لمبی دوری کی یہ ۱۳ سالہ رنر جدید دور کے کسی فیشن کی وجہ سے ننگے پاؤں نہیں ہے۔ ’’میں ننگے پاؤں اس لیے دوڑتی ہوں کیونکہ میرے والدین مہنگے جوتے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے ہیں،‘‘ وہ کہتی ہے۔
ورشا کدم، پربھنی کے زرعی مزدور وشنو اور دیو شالا کی بیٹی ہیں۔ پربھنی، اکثر خشک سالی کی زد میں آنے والے ریاست کے مراٹھواڑہ علاقے کے غریب ترین اضلاع میں سے ایک ہے۔ ان کی فیملی ماتنگ برادری سے تعلق رکھتی ہے، جو مہاراشٹر میں درج فہرست ذات کے طور پر درج ہے۔
’’مجھے دوڑنا اچھا لگتا ہے،‘‘ یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھوں میں چمک آ جاتی ہے۔ ’’پانچ کلومیٹر کی بلڈھانہ اربن فاریسٹ میراتھن میری پہلی دوڑ تھی، جو میں نے ۲۰۲۱ میں پوری کی تھی۔ میں بہت خوش تھی کیوں کہ میں نے دوسرا مقام حاصل کیا تھا اور اپنی زندگی کا پہلا میڈل بھی جیتا تھا۔ میں زیادہ سے زیادہ مقابلے جیتنا چاہتی ہوں،‘‘ پختہ عزم سے بھری یہ نوعمر لڑکی کہتی ہے۔
اس کے ماں باپ نے دوڑ کے تئیں اس کے جنون کو اسی وقت پہچان لیا تھا، جب وہ صرف آٹھ سال کی تھی۔ ’’میرے ماموں پاراجی گائکواڑ ایک ریاستی سطح کے ایتھلیٹ تھے۔ وہ اب آرمی میں ہیں۔ انھیں سے متاثر ہو کر میں نے دوڑنا شروع کیا تھا،‘‘ وہ مزید کہتی ہے۔ سال ۲۰۱۹ میں اس نے ریاستی سطح کے انٹر اسکول مقابلے میں چار کلومیٹر کی کراس کنٹری دوڑ میں دوسرا مقام حاصل کیا تھا اور، ’’اس سے مجھے دوڑ کے مقابلے میں آگے بڑھنے کا مزید اعتماد حاصل ہوا۔‘‘
















