سدھیر کوسرے اپنے زخم دکھانے کے لیے ایک چارپائی پر بے ڈھنگے انداز میں بیٹھے ہیں: ان کے دائیں پاؤں میں گہرا زخم لگا ہے؛ دائیں ران میں تقریباً پانچ سینٹی میٹر لمبا شگاف ہے؛ دائیں بازو کے نیچے ایک لمبا اور کاری ضرب لگا ہوا ہے جس پر ٹانکے لگے ہیں۔ دراصل، ان کے پورے جسم پر زخم کے نشانات ہیں۔
بغیر پلاسٹر والے اپنے دو کمرے کے گھر میں ایک کمرے کی مدھم روشنی میں بیٹھے وہ نہ صرف خوفزدہ ہیں، بلکہ کافی تکلیف میں بھی ہیں۔ ان کی بیوی، ماں اور بھائی ان کے ساتھ ہیں۔ باہر تیز بارش ہو رہی ہے۔ اس علاقے میں یہ بارش ایک طویل انتظار اور پریشان کن تاخیر کے بعد ہو رہی ہے۔
۲ جولائی ۲۰۲۳ کی شام کو سدھیر – جو ایک بے زمین مزدور ہیں اور جن کا تعلق لوہار-گاڈی برادری سے ہے (جسے گاڈی لوہار بھی کہا جاتا ہے، اور جو ریاست میں دیگر پسماندہ ذات کے طور پر درج ہے) – کھیت میں کام کے دوران ایک خونخوار جنگلی سؤر کے زبردست حملے کی زد میں آ گئے تھے۔ دبلے پتلے لیکن گٹھیلے بدن والے اس ۳۰ سالہ زرعی مزدور کا کہنا ہے کہ حالانکہ اس حملے میں وہ بری طرح زخمی ہوئے تھے، لیکن خوش قسمتی سے ان کے چہرے اور سینے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا۔
پاری نے ۸ جولائی کی شام کو چندر پور ضلع کی ساؤلی تحصیل میں واقع علاقائی جنگلات سے متصل ان کے اجاڑ آبائی گاؤں کَوَٹھی میں جب ان سے ملاقات کی، تو وہ ابھی ابھی ہسپتال سے ڈسچارج ہوکر گھر واپس آئے تھے۔
انہیں یاد ہے کہ مدد کے لیے ان کی چیخ و پکار سن کر کیسے کھیت میں ٹریکٹر چلا رہے ایک ساتھی مزدور نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر سؤر پر پتھر برساتے ہوئے ان کی طرف دوڑ لگائی تھی۔
سؤر - جو غالباً ایک مادہ تھی - نے ان پر اپنے دانتوں (ٹسک) سے حملہ کیا تھا۔ جب وہ گرے تھے تو ان کی خوفزدہ اور بے جان آںکھیں ابر آلود آسمان کی جانب تک رہی تھیں۔ ’’وہ پیچھے ہٹ کر اپنے لمبے دانتوں سے مجھ پر حملے کر رہی تھی،‘‘ جب سدھیر یہ باتیں کہہ رہے تھے تو اس دوران ان کی بیوی بے یقینی کے ساتھ مبہم آواز میں کچھ کہہ رہی تھیں۔ انہیں معلوم ہے کہ ان کے شوہر موت کے منھ سے نکل کر آئے ہیں۔
قریبی جھاڑیوں میں بھاگنے سے پہلے اس سؤر نے انہیں شدید طور پر زخمی کر دیا تھا۔


















