سال ۱۹۴۷ کی خونی تقسیم کے بعد الگ ہوئے دو ممالک کے درمیان سرحد کو نشان زد کرتی ریڈکلف لائن پنجاب کو بھی دو حصوں میں تقسیم کرتی ہے۔ پنجاب کے جغرافیہ کے ساتھ ساتھ یہ لائن (جس کی وجہ تسمیہ ایک برطانوی وکیل ہیں، جنہوں نے باؤنڈری کمیشن کے چیئرمین کے طور پر کام کیا تھا) پنجابی زبان کے دو رسم الخط کو بھی تقسیم کرتی ہے۔ ریاست کے لدھیانہ ضلع کی پائل تحصیل کے گاؤں کٹہری سے تعلق رکھنے والے کرپال سنگھ پَنّو کہتے ہیں، ’’تقسیم نے پنجابی زبان کے ادب اور اس کے دو رسم الخط پر بھی کاری ضرب لگائی ہے۔‘‘
پَنّو ۹۰ سالہ سابق فوجی ہیں، جنہوں نے اپنی زندگی کی تین دہائیاں تقسیم کے اس خاص زخم پر مرہم لگانے میں وقف کر دیں۔ بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) سے ڈپٹی کمانڈنٹ کے طور پر سبکدوش ہونے والے پَنّو نے صحیفوں اور مقدس کتابوں جیسے گرو گرنتھ صاحب، مہان کوش (پنجاب کی سب سے قابل احترام انسائیکلو پیڈیا میں سے ایک) اور دیگر ادبی تخلیقات کا گرومکھی سے شاہ مکھی میں اور شاہ مکھی سے گرومکھی میں ٹرانسلٹریشن (حروف کی منتقلی) کیا ہے۔
شاہ مکھی اردو کی طرح دائیں سے بائیں جانب لکھی جاتی ہے۔ سال ۱۹۴۷ کے بعد سے ہندوستانی پنجاب میں اس کا استعمال نہیں ہوتا۔ سال ۱۹۹۵-۱۹۹۶ میں پَنّو نے ایک کمپیوٹر پروگرام تیار کیا، جس سے گرو گرنتھ صاحب کو گرومکھی سے شاہ مکھی اور پھر شاہ مکھی سے گرومکھی میں تبدیل کیا جا سکتا تھا۔
تقسیم سے قبل اردو داں طبقہ بھی شاہ مکھی میں لکھی ہوئی پنجابی پڑھ سکتا تھا۔ قیام پاکستان سے پہلے زیادہ تر ادبی تصانیف اور سرکاری اور درباری دستاویزات شاہ مکھی میں لکھی ہوتی تھیں۔ یہاں تک کہ ’قصہ‘، جو سابقہ غیرمنقسم صوبے کی روایتی کہانی سنانے کا فن تھا، اس میں بھی صرف شاہ مکھی کا استعمال ہوتا تھا۔
گرومکھی، جو بائیں سے دائیں جانب لکھی جاتی ہے اور جو دیوناگری رسم الخط سے کچھ مشابہت رکھتی ہے، پاکستانی پنجاب میں استعمال نہیں ہوتی۔ نتیجتاً، پنجابی بولنے والے پاکستانیوں کی بعد کی نسلیں جو گرومکھی پڑھنے سے قاصر تھیں، اپنے ادب سے دور ہوگئیں۔ یہ نسلیں غیرمنقسم پنجاب کے عظیم ادبی سرمائے کو صرف اسی وقت پڑھ سکتی ہیں جب اسے شاہ مکھی رسم الخط میں منتقل کیا جائے گا، جسے وہ جانتے ہیں۔













