یہ ۱۹۹۸ کی ہٹ فلم، اے بگس لائف، کے سیکول جیسا ہے۔ ہالی ووڈ کی حقیقی فلم، فلک، میں چیونٹی اپنے جزیرہ پر اپنی نسل کو دشمن – ٹڈیوں – سے بچانے کے لیے بہادر جنگجوؤں کی ایک فوج تیار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ہندوستان میں حقیقی زندگی کے اس سیکول میں، اداکاروں کی تعداد کھربوں میں ہے، جن میں سے ۱۳۰ کروڑ انسان ہیں۔ چھوٹی سینگ والی ٹڈیوں کا جھنڈ اس سال مئی میں آیا، ہر ایک جھنڈ میں لاکھوں ٹڈیاں تھیں۔ ملک کے زرعی کمشنر کا کہنا ہے کہ ان ٹڈیوں نے بہار، گجرات، مدھیہ پردیش، راجستھان اور اتر پردیش میں تقریباً ایک لاکھ ایکڑ میں کھڑی فصلوں کو تباہ کر دیا۔
یہ ہوائی حملہ آور قومی سرحدوں کو بے معنی بنا دیتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) کے مطابق، مغربی افریقہ سے ہندوستان تک یہ ٹڈیاں ۳۰ ممالک اور ۱۶ ملین مربع کلومیٹر میں موجود ہیں۔ اور ٹڈیوں کا ایک چھوٹا جھنڈ – ۱ مربع کلومیٹر میں تقریباً ۴۰ ملین ممبران کے ساتھ – ایک دن میں اتنا ہی کھانا کھا سکتا ہے جتنا ۳۵ ہزار انسان، ۲۰ اونٹ یا چھ ہاتھی کھاتے ہیں۔
اس لیے یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے کہ قومی لوکسٹ وارننگ آرگنائزیشن کے ارکان وزارتِ دفاع، زراعت، امورِ داخلہ، سائنس اور ٹیکنالوجی، شہری ہوا بازی اور مواصلات سے آتے ہیں۔
حالانکہ، ٹڈیاں ابھرتی ہوئی اسکرپٹ میں واحد ویلن نہیں ہیں، کیوں کہ لاکھوں کیڑوں کے درمیان کے نازک توازن کو خطرے میں ڈال دیا گیا ہے۔ ہندوستان میں، حشرات کے ماہر اور آدیواسی اور دیگر کسان ان دشمن کیڑوں کو کئی، اور کبھی کبھی غیر ملکی انواع کی فہرست میں ڈال دیتے ہیں۔ کچھ اچھے کیڑے – غذائی پیداوار کے لیے موزوں ’فائدہ مند کیڑے‘ – بھی تب برے بن سکتے ہیں جب ماحولیاتی تبدیلی ان کے ٹھکانوں کو اجاڑ رہی ہو۔










