سریندر ناتھ اوستھی اپنے بازوؤں کو افق کی سمت پھیلاتے ہیں جو صرف ان کی یادوں میں زندہ ہے۔ ’’یہ سب، اور وہ بھی،‘‘ وہ ایک وسیع علاقے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اور ایک ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہتے ہیں۔
’’ہم اس سے محبت کرتے تھے۔ اس کی وجہ سے ہمارے کنوؤں میں محض ۱۰ فٹ نیچے میٹھا پانی مل جاتا تھا۔ ہر مانسون میں وہ ہمارے گھروں تک چڑھ آتی تھی۔ ہر تیسرے سال ایک قربانی مانگتی تھی۔ یہ قربانی زیادہ تر چھوٹے جانور کی ہوتی تھی۔ حالانکہ ایک بار وہ میرے ۱۶ سالہ کزن کو اپنے ساتھ لے کر چلی گئی۔ میں غصے میں تھا اور کئی دنوں تک اس کی طرف دیکھ کر چیختا رہا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’لیکن اب، وہ کافی عرصے سے ناراض ہے… شاید پل کی وجہ سے ایسا ہوا ہو،‘‘ ان کی آواز دھیرے دھیر مدھم ہو جاتی ہے۔
سریندر، سئی ندی پر بنے ۶۷ میٹر لمبے پل پر کھڑے ہیں۔ یہ ندی بمشکل اپنا وجود قائم رکھے ہوئی ہے۔ ’یہ‘ ناراض ہے۔ پل کے نیچے کھیت ہیں۔ ندی کی تہہ میں گندم کی کٹائی کے بعد کی جڑیں اور اطراف میں پانی سوکھنے والے یوکلپٹس کے درخت جھوم رہے ہیں۔
سریندر کے دوست اور رفیق کار جگدیش پرساد تیاگی، جو ایک ریٹائرڈ اسکول ٹیچر ہیں، سئی کو ’’ایک خوبصورت ندی‘‘ کے طور پر یاد کرتے ہیں۔
وہ گہرے پانی میں پیدا ہونے والے بھنور کے بارے میں بات کرتے ہیں، جن پر بڑی مچھلیاں اچھل کود مچاتی تھیں۔ انہیں ایڈی مچلی، روہو، ایل، پفرز وغیرہ مچھلیاں اب بھی یاد ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’جب پانی خشک ہونے لگا تو مچھلیاں بھی غائب ہونے لگیں۔‘‘
ندی سے وابستہ کچھ اور بھی دلکش یادیں ہیں۔ سال ۲۰۰۷ سے ۲۰۱۲ تک گاؤں کی سرپنچ رہیں ۷۴ سالہ مالتی اوستھی یاد کرتی ہیں کہ کیسے سئی اپنی دھارا سے تقریباً ۱۰۰ میٹر کے فاصلے پر واقع ان کے صحن تک چڑھ آئی تھی۔ اس وسیع صحن میں ہر سال گاؤں والے ان کنبوں کے لیے اجتماعی ’اَنّ پروَت دان‘ (اناج کے ڈھیر کے تحفے) کا اہتمام کرتے تھے، جن کی فصلیں دریا کے غصے کی نذر ہو جاتی تھیں۔
مالتی کہتی ہیں، ’’اب اس اجتماعیت کا وہ احساس ختم ہو گیا ہے۔ ان فصلوں کا ذائقہ جاتا رہا ہے۔ کنوؤں میں پانی ختم ہو گیا ہے۔ مویشیوں کو اتنی ہی مصیبت اٹھانی پڑتی ہے جتنی ہم اٹھا رہے ہیں۔ زندگی بے مزہ ہو گئی ہے۔‘‘























