’’طوفان اچانک آ گیا تھا اُس دوپہر!‘‘
’’ہاں، سچ میں۔ خطرناک طوفان تھا۔ ہے نا؟‘‘
’’ہاں، مجھے لگتا ہے کہ درخت بھی کافی پرانا تھا۔ وہ تب سے یہیں کھڑا تھا، جب ہم پانچ دہائی پہلے اس سوسائٹی میں رہنے آئے تھے۔‘‘
’’ویسے بھی، یہ بہت ہی خطرناک طریقے سے ایک طرف جھک گیا تھا۔ اور، اس کے نیچے لگنے والی عبدل کی ٹپری بھی بہت ہنگامہ والی جگہ تھی۔ رات کو چمگادڑ گھومتے تھے اور دن بھر شرارتی لڑکے ڈیرہ ڈالے رہتے تھے۔ مجھے بالکل بھی پسند نہیں تھا۔‘‘
’’کیا آواز آئی تھی! ہے نا؟‘‘
میونسپلٹی کی ناگہانی مدد کو یہاں پہنچے اور اپارٹمنٹ کے گیٹ پر رکاوٹ پیدا کرنے والے درخت کو ہٹائے ۳۶ گھنٹے ہو چکے ہیں۔ لیکن لوگ ابھی تک اسی کے بارے میں بات کر رہے ہیں: آہ کتنا عجیب، اوہ کتنا چونکانے والا، آہ کتنا اچانک، اوہ کتنا خوفناک، آہ کتنا خوش قسمت۔ کبھی کبھی وہ سوچ میں پڑ جاتی ہے کہ کیا کوئی اور بھی ان چیزوں کو اور آس پاس کی دنیا کو اسی نظر سے دیکھتا ہے جیسا وہ دیکھتی ہے۔ کیا انہیں معلوم تھا کہ وہ آدمی اس دوپہر درخت کے نیچے ہی موجود تھا؟ کیا کوئی اس کی موت کا گواہ تھا؟
جب وہ عبدل چچا کی دکان کے پاس آٹو سے اتری تھی، تب بھی بھاری بارش ہو رہی تھی۔ سڑک پر پانی بھر گیا تھا اور آٹو والے نے آگے جانے سے منع کر دیا تھا۔ چچا نے اسے پہچان لیا تھا۔ وہ چھاتا لے کر دوڑے اور بغیر کچھ کہے ہی اس کے ہاتھ میں چھاتا پکڑا دیا تھا۔ انہوں نے آہستہ سے صرف سر ہلایا تھا۔ وہ ان کی بات سمجھ گئی تھی، اور مسکراتے اور سر ہلاتے ہوئے چھاتا لے لیا تھا۔ اس کے بعد، وہ تھوڑا آگے موجود اپنے اپارٹمنٹ تک جانے کے لیے پانی سے بھری سڑک کو پار کرنے لگی تھی۔ ایک منٹ کے لیے بھی اسے خیال نہیں آیا کہ ماحولیات میں تبدیلی آنے لگی ہے۔
ایک گھنٹہ بعد، جب دھڑدھڑا کر کچھ گرنے کی آواز سنائی دی، تو وہ کھڑکی کی طرف دوڑی۔ ایسا منظر دکھائی دیا، گویا مرکزی سڑک پر کوئی نیا جنگل اُگ آیا ہو۔ کچھ دیر بعد اسے سمجھ آیا کہ پرانا درخت گرا ہوا ہے۔ اور، اس کے پاس سفید گول ٹوپی پڑی ہوئی نظر آئی، جیسے کسی درخت کی سوراخ سے ایک سفید کبوتر جھانک رہا ہو۔



