اترپردیش شکشک مہاسنگھ (اساتذہ کی تنظیم) اور اس سے منسلک یونینوں کی تازہ فہرست کے مطابق، اپریل کے مہینہ میں اتر پردیش کے پنچایت انتخابات میں لازمی طور پر ڈیوٹی لگائے جانے کے بعد کووڈ۔۱۹ کی وجہ سے مرنے والے اسکول ٹیچروں کی تعداد اب ۱۶۲۱ ہو چکی ہے – جس میں ۱۱۸۱ مرد اور ۴۴۰ عورتیں شامل ہیں۔ پاری کے پاس یہاں پوری لسٹ ہے، ہندی اور انگریزی دونوں میں۔
۱۰ مئی کو ہم نے ایک اسٹوری شائع کی تھی – اس مضمون کو نیچے دیکھیں – جس میں تفصیل سے یہ بتایا گیا تھا کہ کیسے انسان کی حرکتوں سے اتنا بڑا سانحہ پیش آیا۔ ریاستی الیکشن کمیشن (ایس ای سی) اور یوپی حکومت دونوں نے انتخابات کو ملتوی کرنے کی ٹیچروں کی متعدد درخواستوں کو ٹھکرا دیا۔ اُس وقت، جن ٹیچروں کی انتخابی ڈیوٹی کی تھی اور کووڈ۔۱۹ کی وجہ سے جن کی موت ہوئی تھی، ان کی تعداد ۷۱۳ تھی – ۵۴۰ مرد اور ۱۷۳ خواتین اسکول ٹیچر۔
اس ریاست میں سرکاری پرائمری اسکولوں میں تقریباً ۸ لاکھ ٹیچر ہیں – جن میں سے ہزاروں کو انتخابی ڈیوٹی پر بھیجا گیا تھا۔ اور انتخاب بھی بہت بڑے پیمانے پر ہوا تھا۔ ۱۳ لاکھ امیدوار ۸ لاکھ سیٹوں کے لیے میدان میں تھے، اور ووٹروں کی تعداد تھی ۱۳ کروڑ۔ ظاہر ہے، ایسے میں انتخابی اہلکاروں (ٹیچروں اور دیگر افراد) کو لاکھوں انسانوں سے رابطہ کرنا پڑا، جب کہ حفاظتی انتظامات بہت ہی کم تھے۔
یوپی کے پنچایت انتخابات ماضی میں مؤخر کیے جا چکے ہیں – مثال کے طور پر ستمبر ۱۹۹۴ سے اپریل ۱۹۹۵ تک۔ پھر ’’غیر معمولی وبائی مرض اور ہمیں درپیش اتنے بڑے انسانی بحران کے دوران اتنی جلدی کیوں تھی؟‘‘ سابق ریاستی الیکشن کمشنر، ستیش کمار گروال پوچھتے ہیں۔
یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اس بات سے انکار کرتے رہے ہیں کہ انتخابات کرانے اور اسکول ٹیچروں اور دیگر سرکاری ملازمین کی اموات کے درمیان کوئی تعلق ہے۔ ’’کیا دہلی میں کوئی الیکشن تھا؟ کیا مہاراشٹر میں کوئی الیکشن تھا؟‘‘ انہوں نے ۱۲ مئی کو نوئیڈا میں نامہ نگاروں سے پوچھا تھا۔ اس کی ذمہ داری الہ آباد ہائی کورٹ پر بھی تھوپنے کی کوششیں ہوچکی ہیں۔ جیسا کہ وزیر اعلی آدتیہ ناتھ نے نامہ نگاروں سے کہا تھا: ’’پنچایت انتخابات ہائی کورٹ کی ہدایات کے مطابق ہوئے تھے۔‘‘
یہ صرف آدھا سچ ہے۔ عدالت نے انتخابات کو مؤخر کرنے کی ایک عرضی کو ضرور خارج کر دیا تھا۔ لیکن وہ ایک نجی عرضی تھی، ریاست کے ذریعے داخل نہیں کی گئی تھی۔ (آئینی تقاضے کے مطابق، پنچایت انتخابات ۲۱ جنوری، ۲۰۲۱ سے پہلے مکمل ہو جانے چاہیے تھے)۔ لیکن عدالت نے حکم دیا تھا کہ یہ انتخابات کووڈ۔۱۹ پروٹوکول پر سختی سے عمل کرتے ہوئے کرائے جانے چاہئیں۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے ۶ اپریل کو کہا کہ اسے یقین ہے کہ ریاست تمام حفاظتی طور طریقے اپنائے گی اور یہ کہ یوپی حکومت نے دراصل ’’ خود ہی ایک پروٹوکول کا اعلان کر دیا تھا کہ چناؤ پرچار کے دوران اس کی تعمیل کی جائے گی۔‘‘ اس نے مزید یہ حکم دیا تھا کہ ’’پنچایت راج الیکشن اس طرح سے منعقد کیا جانا چاہیے کہ لوگ کہیں بھی جمع نہ ہوں۔ چاہے وہ پرچہ نامزدگی بھرنا ہو، پرچار ہو یا حقیقی ووٹنگ، یہ دیکھا جانا چاہیے کہ کووڈ۔۱۹ کے تمام پروٹوکول کا خیال رکھا جا رہا ہے۔‘‘ دوسرے لفظوں میں، انتخابات ’’ہائی کورٹ کی ہدایات کے مطابق‘‘ منعقد نہیں کرائے گئے تھے۔ عدالت کی ان ہدایات کی خلاف ورزی ٹیچروں کے لیے تباہ کن ثابت ہوئی، ایسا ان کی یونینوں کا کہنا ہے۔
یوپی کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو لکھے گئے ٹیچروں کی یونینوں کے تازہ ترین خط میں کہا گیا ہے، ’’معزز سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران بھی (ٹیچروں کی) تنظیم نے اپنے وکیل کے توسط سے اپنے موقف کی وضاحت کی تھی۔ تاہم، سرکاری وکیل نے معزز سپریم کورٹ کو یقین دلایا تھا کہ کووڈ کی بیماری سے لوگوں کی حفاظت کی گائیڈ لائنس پر ووٹوں کی گنتی کے دوران سختی سے عمل کیا جائے گا۔‘‘
ایک انتہائی جذباتی جملہ میں، خط میں کہا گیا ہے: ’’بڑے افسوس کی بات ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں ٹیچروں کی موت پر ابھی تک نہ تو محکمہ ابتدائی تعلیم نے اور نہ ہی حکومت اتر پردیش نے کسی قسم کے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔‘‘
۲۶ اپریل کو، عدالت نے ایس ای سی کو اُن پروٹوکول کی ’’عدم تعمیل‘‘ کے لیے نوٹس جاری کیا تھا، جس میں ماسک پہننا اور سماجی دوری اپنانا شامل تھا جس پر ’’پوری ایمانداری سے عمل کیا جانا چاہیے‘‘ تھا۔ اگر حکومت یا ایس ای سی عدالت کے حکم سے ناخوش تھے تو وہ سپریم کورٹ میں اپیل کر سکتے تھے۔ لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ اس سے پہلے بھی، مارچ کے آخری ہفتہ میں، ریاست نے ہولی کے زبردست جشن کے دوران بھی ریاست میں کووڈ۔۱۹ کے پروٹوکول کو نافذ کرنے کے لیے کوئی حقیقی کوشش نہیں کی تھی۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے ۱۲ مئی کو کہا کہ ریاست اُن انتخابی افسران (ٹیچر اور دیگر سرکاری ملازمین) کے اہل خانہ کو بطور معاوضہ کم از کم ایک کروڑ روپے کی امدادی رقم دے، جن کی پنچایت انتخابات میں ڈیوٹی کے بعد کووڈ۔۱۹ کی وجہ سے موت ہوئی ہے۔ جسٹس سدھارتھ ورما اور اجیت کمار کی ڈویژن بینچ کے الفاظ میں: ’’یہ کوئی ایسا کیس نہیں ہے کہ کسی نے الیکشن کے دوران رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات فراہم کیں، بلکہ یہ ان تمام لوگوں کے لیے لازمی کر دیا گیا جنہیں الیکشن کی ڈیوٹی سونپی گئی تھی کہ وہ الیکشن کے دوران اپنی ڈیوٹی ضرور انجام دیں، حالانکہ وہ کرنا نہیں چاہتے تھے۔‘‘
نوٹ کرنے والی بات یہ بھی ہے کہ ملک کی کسی بھی عدالت نے اتراکھنڈ یا اترپردیش کی حکومتوں کو یہ حکم نہیں دیا یا ان سے یہ نہیں کہا کہ وہ کمبھ میلہ کو ایک سال آگے کر دیں۔ ہری دوار کا کمبھ میلہ ہر ۱۲ سال میں ہوتا ہے اور اگلا سال ۲۰۲۲ میں ہونے والا تھا۔ پھر بھی، کمبھ ایک بڑا اجتماعی پروگرام تھا، جس کے کئی دن پنچایت انتخابات کے دوران ہی پڑے تھے۔ کمبھ کو ۲۰۲۲ سے ۲۰۲۱ میں لانے کی جوشیلی نجومی اور مذہبی دلیل دی گئی ہے۔ لیکن اتر پردیش اسمبلی انتخابات – جو اگلے سال فروری۔مارچ میں ہونے ہیں – سے پہلے کمبھ میلہ اور پنچایت انتخابات کو ’کامیابی‘ سے منعقد کرانے کی سیاسی ضرورت پر بہت کم بات ہوئی ہے، جہاں ان واقعات کو، اگر وہ پوری طرح سے ہولناک ثابت نہیں ہوئے ہوتے، بڑی حصولیابی کے طور پر پیش کیا جا سکتا تھا۔
اس بحران پر یہ ہے پاری کی (۱۰ مئی کی) بنیادی اسٹوری:














