رتیش مشرا سیتا پور کے ایک اسپتال میں بستر پر لیٹے ہوئے تھے، آکسیجن کی نلی ان کی ناک میں لگی ہوئی تھی اور وہ زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے تھے، پھر بھی ان کے فون کی گھنٹی لگاتار بج رہی تھی۔ فون پر ریاستی الیکشن کمیشن اور سرکاری حکام کی طرف سے اس بیمار اسکول ٹیچر سے یہ تصدیق کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ وہ ۲ مئی کو اپنی ڈیوٹی پر موجود رہیں گے – جو کہ اتر پردیش کے پنچایت انتخابات میں ووٹوں کی گنتی کا دن تھا۔
’’فون کی گھنٹی بند ہی نہیں ہو رہی تھی،‘‘ ان کی بیوی اپرنا کہتی ہیں۔ ’’میں نے جب فون اٹھایا اور اس شخص سے کہا کہ رتیش اسپتال میں بھرتی ہیں اور ڈیوٹی پر نہیں جا سکتے – تو انہوں نے بطور ثبوت، مجھ سے ان کی اسپتال والی تصویر بھیجنے کے لیے کہا۔ میں نے وہی کیا۔ میں آپ کو وہ تصویر بھیج دوں گی،‘‘ انہوں نے پاری سے کہا۔ اور تصویر بھیجی۔
بات چیت کے دوران ۳۴ سالہ اپرنا مشرا نے بار بار یہی کہا کہ انہوں نے اپنے شوہر سے پرزور طریقے سے التجا کی تھی کہ وہ الیکشن کے کام پر نہ جائیں۔ ’’میں اُن سے یہ بات اسی دن سے کہہ رہی تھی جس دن ان کی ڈیوٹی کا نظام الاوقات آیا تھا،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ ’’لیکن وہ بار بار یہی کہتے رہے کہ الیکشن کے کام کو منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔ اور یہ کہ اگر وہ ڈیوٹی پر نہیں گئے، تو حکام کی طرف سے ان کے خلاف ایف آئی آر بھی کی جا سکتی ہے۔‘‘
کووڈ۔۱۹ کے سبب ۲۹ اپریل کو رتیش کی موت ہو گئی۔ وہ یوپی کے ۷۰۰ سے زیادہ اسکول ٹیچروں میں سے ایک تھے جن کی موت پنچایت انتخابات میں ڈیوٹی کرنے کی وجہ سے اسی طرح ہوئی۔ پاری کے پاس پوری فہرست ہے جس کی کل تعداد اب ۷۱۳ ہو چکی ہے – ۵۴۰ مرد اور ۱۷۳ خواتین ٹیچرس – جب کہ ہلاکتوں کی تعداد اب بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ اس ریاست کے اندر سرکاری پرائمری اسکولوں میں تقریباً ۸ لاکھ ٹیچرز ہیں – جن میں سے ہزاروں کو انتخاب کی ڈیوٹی پر بھیج دیا گیا تھا۔
رِتیش، ایک سہایک ادھیاپک (اسسٹنٹ ٹیچر) جو سیتاپور ہیڈکوارٹرس میں اپنی فیملی کے ساتھ رہتے تھے، لیکن لکھنؤ کے گوسائیں گنج بلاک کے پرائمری اسکول میں پڑھاتے تھے۔ انہیں ۱۵، ۱۹، ۲۶ اور ۲۹ اپریل کو چار مراحل میں ہونے والے پنچایت انتخابات میں پاس کے گاؤں کے ایک اسکول میں انتخابی اہلکار کے طور پر کام کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔













