محترم جناب چیف جسٹس آف انڈیا،
آپ کے اس انتہائی مناسب مشاہدہ کا شکریہ کہ ’’بدقسمتی سے میڈیا کے منظرنامہ سے تحقیقاتی صحافت کا تصور ختم ہوتا جا رہا ہے…ہم جب بڑے ہو رہے تھے، تو بڑے گھوٹالوں کو بے نقاب کرنے والے اخبارات کا بے صبری سے انتظار کرتے تھے۔ اخبارات نے ہمیں کبھی مایوس نہیں کیا۔‘‘
حالیہ دنوں میں میڈیا کے بارے میں صحیح الفاظ شاید ہی کبھی ادا کیے گئے ہوں۔ اپنی پرانی برادری کو یاد کرنے کا شکریہ، بھلے ہی اس سے آپ کا تعلق مختصر وقت کے لیے ہی رہا۔ آپ نے جب ۱۹۷۹ میں ’ایناڈو‘ میں شمولیت اختیار کی تھی، اس کے کچھ مہینے بعد ہی میں بھی صحافت سے جڑا تھا۔
جیسا کہ آپ نے حال ہی میں ایک کتاب کی رسم اجراء میں اپنی تقریر کے دوران یاد کرتے ہوئے کہا – اُن دنوں ہم سوکر اٹھتے اور ’’بڑے گھوٹالوں کو بے نقاب کرنے والے اخبارات کا بے صبری سے انتظار کرتے تھے۔‘‘ جناب، آج ہم سو کر اٹھتے ہیں اور رپورٹس دیکھتے ہیں کہ گھوٹالوں کو بے نقاب کرنے والے صحافیوں پر الزامات لگائے جا رہے ہیں، یہاں تک کہ انہیں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کا قانون (یو اے پی اے) جیسے سخت قوانین کے تحت جیلوں میں بند کیا جا رہا ہے۔ یا منی لانڈرنگ کی روک تھام کا قانون (پی ایم ایل اے) جیسے قوانین کا خوفناک طریقے سے غلط استعمال ہو رہا ہے، جس کی آپ نے حال ہی میں سخت مذمت کی تھی۔
’’ماضی میں،‘‘ جیسا کہ آپ نے اپنی تقریر میں کہا، ’’ہم نے دیکھا ہے کہ اخبارات میں گھوٹالوں اور بدانتظامی سے متعلق رپورٹس کے سنگین نتائج برآمد ہوتے تھے۔‘‘ افسوس، آج کل اس قسم کے سنگین نتائج کا سامنا ایسی اسٹوریز کرنے والے صحافیوں کو کرنا پڑتا ہے۔ انہیں بھی، جو براہ راست رپورٹنگ کرتے ہیں۔ اتر پردیش میں اجتماعی عصمت دری جیسے بہیمانہ َظلم کی شکار لڑکی کے اہل خانہ سے ملنے کے لیے ہاتھرس جاتے وقت راستے میں ہی گرفتار کر لیے گئے صدیق کپن اب ایک سال سے بھی زیادہ عرصے سے جیل میں بند ہیں، انہیں ضمانت نہیں مل رہی ہے اور ان کا کیس ایک عدالت سے دوسری عدالت میں منتقل کیا جا رہا ہے، جب کہ ان کی صحت تیزی سے بگڑتی جا رہی ہے۔
ہمارے سامنے موجود اس قسم کی مثالوں سے، ظاہر ہے کہ صحافت بڑی حد تک ختم ہو جائے گی – چاہے وہ تحقیقاتی صحافت ہو یا کچھ اور۔
جسٹس رمنا، آپ بالکل صحیح کہہ رہے ہیں کہ ماضی میں ہوئے گھوٹالے اور اسکینڈل کے انکشاف کے مقابلے، آپ کو ’’حالیہ برسوں میں اتنی شدت والی کوئی اسٹوری یاد نہیں ہے۔ ہمارے باغ کی ہر چیز گلابی دکھائی دیتی ہے۔ اپنا نتیجے پر آپ خود ہی پہنچیں، یہ میں آپ کے اوپر چھوڑتا ہوں۔‘‘
قانون اور میڈیا دونوں کے بارے میں آپ کے گہرے علم اور ہندوستانی معاشرہ کا ایک متجسس مشاہد ہونے کے ناطے – کاش، جناب والا، آپ نے تھوڑا آگے جا کر ان عوامل کو بیان کیا ہوتا جو نہ صرف تحقیقاتی صحافت، بلکہ ہندوستان کی زیادہ تر صحافت پر حاوی ہیں۔ جیسا کہ آپ نے ہمیں خود اپنے نتیجے پر پہنچنے کی دعوت دی ہے، کیا میں آپ کے غور کرنے کے لیے تین وجوہات پیش کر سکتا ہوں؟
اوّل، ساختی حقائق کے اعتبار سے میڈیا کی پوری ملکیت چند کارپوریٹ گھرانوں کے ہاتھوں میں ہے جو کافی منافع کما رہے ہیں۔
دوئم، آزاد صحافت پر ریاست کی طرف سے بے انتہا حملے ہو رہے ہیں اور انہیں بے رحمی سے کچلا جا رہا ہے۔
سوئم، اخلاقیات زوال پذیر ہے، اور اس پیشہ میں کئی سینئر حضرات ایسے ہیں جو برسر اقتدار طبقہ کو بطور اسٹینوگرافر اپنی خدمات پیش کرنے کو بے تاب ہیں۔
دراصل، صحافتی ہنر سکھانے والے ایک استاد کی حیثیت سے، میں اپنے شاگردوں سے اکثر پوچھتا ہوں کہ وہ ہمارے اس پیشہ کے باقی دو مکاتب فکر – صحافت یا اسٹینوگرافی – میں سے کس کے ساتھ خود کو جوڑنا چاہیں گے؟
تقریباً ۳۰ سال تک، میں دلیل دیتا رہا کہ ہندوستانی میڈیا سیاسی طور پر تو آزاد ہے لیکن منافع کمانے والوں نے اسے قید کر رکھا ہے۔ آج، وہ لوگ منافع کمانے والوں کی قید میں تو ہیں ہی، مگر ان کے درمیان جو تھوڑے بہت لوگ آزادی سے اپنی بات رکھتے تھے اب وہ بھی تیزی سے سیاسی طور پر قید ہوتے جار ہے ہیں۔
آپ ہی سوچئے، کیا یہ بات صحیح نہیں ہے کہ میڈیا کی آزادی کی اس افسوس ناک صورتحال کو لے کر خود میڈیا کے اندر بہت کم گفتگو ہو رہی ہے۔ گزشتہ چند سالوں کے اندر، صحافت سے وابستہ چار سرکردہ عوامی دانشوروں کا قتل کر دیا گیا۔ ان میں سے، تجربہ کار صحافی گوری لنکیش کل وقتی میڈیا شخصیت تھیں۔ (’رائزنگ کشمیر‘ کے ایڈیٹر، شجاعت بخاری بھی بندوق برداروں کی گولیوں کی زد میں آ گئے)۔ لیکن باقی تینوں افراد میڈیا کے باقاعدہ قلم کار اور کالم نگار تھے۔ نریندر دابھولکر نے توہم پرستی کے خلاف ایک رسالہ کی بنیاد ڈالی اور اس کی ادارت کی، جسے وہ ۲۵ سال تک نکالتے رہے۔ گووند پانسرے اور ایم ایم کلبرگی نامور مصنف اور کالم نگار تھے۔
چاروں میں یہ چیز مشترک تھی: وہ عقلیت پسند تھے اور صحافی بھی، جو ہندوستانی زبانوں میں لکھتے تھے – جس کی وجہ سے ان کے قاتلوں کو درپیش خطرہ بڑھ گیا تھا۔ ان چاروں کا قتل غیر ریاستی عناصر کے ذریعے کیا گیا جو ظاہر ہے اعلیٰ درجے کی ریاستی دخل اندازی کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ کئی دیگر آزاد صحافی ان غیر ریاستی عناصر کی ہٹ لسٹ پر ہیں۔
اگر عدلیہ اس حقیقت کو تسلیم کر لیتی کہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہو رہا ہے جب پریس کی آزادی سب سے کم تر سطح پر ہے، تو شاید اس کی خستہ حالت میں کچھ حد تک بہتری آ سکتی تھی۔ جدید تکنیکوں سے لیس ریاست کی جابرانہ صلاحیت – جس کا مشاہدہ آپ نے بلاشبہ پیگاسس کیس سے نمٹنے کے معاملے میں کیا – ایمرجنسی کے ڈراؤنے خوابوں کو بھی بونا کر دیتی ہے۔
فرانس میں مقیم ’رپورٹرز وِداؤٹ بارڈرز‘ (سرحدوں سے مبرا نامہ نگاروں) کے ذریعے ۲۰۲۰ میں جاری کردہ ’ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس‘ یعنی آزاد صحافت کی صورتحال کی عالمی فہرست میں ہندوستان ۱۴۲ویں مقام پر آ گیا۔
آئیے میں آپ کو پریس کی آزادی کے تئیں اس حکومت کے نقطہ نظر کے بارے میں خود اپنا تجربہ بتاتا ہوں۔ ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں ذلت آمیز ۱۴۲ویں مقام سے ناراض ہوکر، کسی اور نے نہیں، بلکہ مرکزی کابینہ سکریٹری نے انڈیکس مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دینے کی بات کہی، جس کا کام ہندوستان میں پریس کی آزادی کا ریکارڈ درست کرنا تھا۔ مجھے بھی اس کمیٹی کا ممبر بننے کے لیے کہا گیا۔ میں نے اس یقین دہانی کے بعد یہ دعوت قبول کر لی کہ ہم ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس (ڈبلیو پی ایف آئی) کی درجہ بندی کی بجائے ہندوستان میں پریس کی آزادی کی حقیقی صورتحال پر اپنی توجہ زیادہ مرکوز کریں گے۔
اس ۱۳ رکنی کمیٹی میں ۱۱ نوکر شاہ اور سرکار کے زیر کنٹرول ادارہ کے محققین شامل تھے۔ اور صرف دو صحافی – ایک ایسی کمیٹی میں جو پریس کی آزادی کو لے کر غور و فکر کرنے جا رہی تھی! اور ان میں سے ایک نے تو، دو چار میٹنگوں میں حاضر ہونے کے دوران ایک لفظ بھی نہیں بولا۔ میٹنگوں کا سلسلہ بحسن و خوبی چلتا رہا، حالانکہ اس دوران میں اکیلا شخص تھا جو بول رہا تھا، سوالات کر رہا تھا۔ پھر ورکنگ گروپس کی طرف سے ایک ’ڈرافٹ رپورٹ‘ تیار کی گئی، جو اس لحاظ سے قابل غور ہے کہ اس میں ’ڈرافٹ‘ لفظ موجود نہیں تھا۔ میٹنگوں کے دوران جتنے بھی سنگین مسائل اٹھائے گئے، ان کا اس رپورٹ میں کہیں کوئی ذکرنہیں تھا۔ اس لیے میں نے ایک آزاد یا اختلافی نوٹ تیار کیا اور اسے اس رپورٹ میں شامل کرنے کے لیے کہا۔
اچانک، وہ رپورٹ، وہ کمیٹی، ساری چیز – غائب ہو گئی۔ شاید ہندوستان کے صرف دو سب سے طاقتور لوگوں کو رپورٹ کرنے والے، ملک کے سب سے اعلیٰ نوکر شاہ کی ہدایات پر بنائی گئی وہ کمیٹی – غائب ہو گئی۔ آر ٹی آئی کے ذریعے بھی پریس کی آزادی سے متعلق اس رپورٹ کا پتہ نہیں لگایا جا سکا۔ حالانکہ، میرے پاس اُس ’ڈرافٹ‘ (مسودہ) کی اپنی کاپی موجود ہے۔ اصلی ورزش بھی تحقیقاتی صحافت کو لے کر نہیں تھی – بلکہ یہ صحافت کی تحقیقات تھی، جس طرح یہ ہندوستان میں کام کرتی ہے۔ اور یہ اختلافی نوٹ جمع کراتے ہی غائب ہو گئی۔
آپ نے اپنی تقریر میں بہت جذباتی ہو کر جس قسم کی تحقیقاتی رپورٹنگ کا ذکر کیا، صحافت میں ویسی رپورٹنگ کرنے کے خواہش مند بہت سے حضرات اب بھی موجود ہیں۔ بڑی جگہوں، خاص کر سرکار میں ہونے والے گھوٹالوں اور بدعنوانی کی تحقیقات کرنے کے خواہش مند ہیں۔ لیکن ایسی کوشش کرنے والے زیادہ تر صحافی پہلی سب سے بڑی رکاوٹ سے ہی مات کھا جاتے ہیں – اور وہ رکاوٹ ہے ان کے کارپوریٹ میڈیا مالکان کے مفادات، جو سرکاری معاہدوں اور اونچی جگہوں پر موجود طاقتور لوگوں سے بری طرح جڑے ہوئے ہیں۔
وہ بڑے میڈیا مالکان پیڈ نیوز سے کافی پیسے کما رہے ہیں، عوامی ملکیت والے وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے لائسنس حاصل کر رہے ہیں، سرکاری نجکاری ادارے ہزاروں کروڑ کی پبلک پراپرٹی ان کے حوالے کر رہے ہیں، اور جو برسر اقتدار پارٹیوں کو انتخابی مہم کے دوران دل کھول کر فنڈ دیتے ہیں – ایسے میڈیا مالکان سے اس بات کی ہرگز توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ اپنے صحافیوں کو اقتدار میں موجود اپنے شراکت داروں کو ناراض کرنے کی کبھی اجازت دیں گے۔ کسی زمانے میں ہندوستان کے اس قابل فخر پیشہ کو آج محض پیسے کمانے کا ذریعہ بنا دینے کے بعد، جہاں ’فورتھ اسٹیٹ‘ (چوتھا ستون یعنی میڈیا) اور ’ریئل اسٹیٹ‘ (زمین و مکان کی خرید و فروخت کا کاروبار) کے درمیان امتیاز کرنا مشکل ہے، اب انہیں ایسی صحافت کی قطعی ضرورت نہیں رہ گئی ہے جو اقتدار کے بارے میں سچ بولے۔
جناب والا، میرا خیال ہے کہ آپ میری اس بات سے ضرور اتفاق کریں گے کہ اس ملک کے عوام کو صحافت اور صحافیوں کی جتنی ضرورت وبائی مرض کے اس دور میں تھی یا ہے، اتنی ضرورت اس سے پہلے کبھی نہیں رہی۔ لیکن عوام (جس میں خود ان کے قارئین اور ناظرین شامل ہیں) کی اس شدید خواہش کا جواب طاقتور میڈیا ہاؤس کے مالکان نے کس طرح دیا؟ تقریباً ۲۰۰۰ سے ۲۵۰۰ صحافیوں اور اس سے کہیں زیادہ میڈیا کے غیر صحافی کارکنوں کو نوکری سے نکال دیا گیا۔






