وسط جولائی میں کسی اور دن، دھمتری شہر سے تقریباً ۱۵ کلومیٹر دور، کولیاری-کھرینگا گاؤں کی سڑک پر، ہم زرعی مزدوروں کے ایک دیگر گروپ سے ملے۔ ’’اگر ہم کام نہیں کریں گے، تو بھوکے مر جائیں گے۔ ہم [کووڈ- ۱۹ کے خطرہ کے سبب] گھر پر محفوظ رہنے کی آسائش حاصل نہیں کر سکتے،‘‘ دھمتری بلاک کے کھرینگا گاؤں کی بھوکھن ساہو نے کہا۔ وہ ۲۴ مزدوروں کے ایک گروپ کی لیڈر-ٹھیکہ دارن ہیں۔ ’’ہم مزدور ہیں اور ہمارے پاس صرف ہاتھ پیر ہیں۔ لیکن کام کرتے وقت، ہم جسمانی دوری بنائے رکھتے ہیں...‘‘
وہ اور دیگر عورتیں سڑک کے دونوں طرف بیٹھی ہوئی تھیں اور دوپہر کے کھانے میں چاول، دال اور سبزی کھا رہی تھیں، جسے وہ گھر سے لے آئی تھیں۔ وہ صبح ۴ بجے اٹھتی ہیں، کھانا بناتی ہیں، گھر کے سبھی کام نمٹاتی ہیں، صبح کا کھانا کھاتی ہیں اور صبح ۶ بجے کھیت پر پہنچ جاتی ہیں۔ وہ ۱۲ گھنٹے بعد، شام کو ۶ بجے گھر لوٹتی ہیں۔ پھر سے کھانا بناتی اور دیگر کام کرتی ہیں، بھوکھن نے اپنے اور دیگر عورتوں کے کام کے دن کے بارے میں بتایا۔
’’ہم روزانہ تقریباً دو ایکڑ میں روپائی کرتے ہیں، اور ۳۵۰۰ روپے فی ایکڑ پاتے ہیں،‘‘ بھوکھن نے کہا۔ گروپ کی یہ فی ایکڑ اجرت (اس موسم میں، دھمتری میں) الگ الگ ہے، ۳۵۰۰ روپے سے لیکر ۴ ہزار روپے تک، اور یہ بات چیت اور گروپ میں مزدوروں کی تعداد پر منحصر ہے۔
بھوکھن کے شوہر کچھ سال پہلے ایک مزدور کے طور پر کام کرنے کے لیے بھوپال گئے تھے اور پھر کبھی نہیں لوٹے۔ ’’انہوں نے ہمیں اس گاؤں میں اکیلا چھوڑ دیا۔ وہ ہمارے رابطہ میں نہیں ہیں،‘‘ انہوں نے بتایا۔ ان کا بیٹا کالج میں ہے، اور بھوکھن کی واحد آمدنی سے ہی ان کی فیملی کے دو لوگوں کا گزارہ چل رہا ہے۔
اسی سڑک پر، ہم زرعی مزدوروں کے ایک اور گروپ سے ملے – جس میں زیادہ تر عورتیں، اور کچھ مرد تھے – جو روپائی کے لیے دھان کے پودے کھیتوں میں لے جا رہے تھے۔ ’’یہی ہمارا ذریعہ معاش ہے۔ اس لیے ہمیں کام کرنا پڑتا ہے۔ اگر ہم کام نہیں کریں گے، تو فصل کون اُگائے گا؟ ہر کسی کو کھانا چاہیے،‘‘ دھمتری گاؤں کے درّی گاؤں کی ٹھیکہ دارن سبیتا ساہو نے کہا۔ ’’اگر ہم کورونا سے ڈریں گے، تو ہم کام بالکل بھی نہیں کر پائیں گے۔ پھر ہمارے بچوں کو کون کھلائے گا؟ اور ہمارا کام ایسا ہے کہ ہم ویسے بھی [دھان کے کھیتوں میں] دوریاں بنائے رکھتے ہیں۔‘‘ جولائی کے وسط میں، جب میں ان سے ملا تھا، تب سبیتا اور ان کے گروپ کی ۳۰ عورتیں ۳۶۰۰ روپے فی ایکڑ کی اجرت سے ۲۵ ایکڑ میں دھان کی روپائی کر چکی تھیں۔