’’تقریباً چار سال قبل میرے بیٹے کا انتقال ہو گیا تھا۔ اس کے ایک سال بعد، میرے شوہر کا بھی انتقال ہو گیا،‘‘ ۷۰ سالہ بھیما ٹنڈالے کہتی ہیں۔ جنوبی ممبئی کے آزاد میدان میں کڑی دھوپ میں بیٹھی وہ ایک سال کے اندر ہوئے ان دو تباہ کن نقصانات کے بارے میں بتاتی ہیں۔ ان کے شوہر اور بیٹا بھی اپنے کھیت پر کام کرتے وقت بیہوش ہوکر گر گئے تھے۔
انتقال کے وقت بھیما کے بیٹے، دتّو کی عمر صرف ۳۰ سال تھی جب کہ ان کے شوہر، اتّم ۶۰ سال کے تھے۔ ’’تب سے میں اپنی بہو سنگیتا کے ساتھ گھر سنبھال رہی ہوں،‘‘ بھیما کہتی ہیں، جو زرعی مزدور کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔ ’’میرا پوتا، سُمت ۱۴ سال کا ہے۔ ہمیں اس کی دیکھ بھال کرنی پڑتی ہے۔‘‘
پھر بھی، بھیما نے تین نئے زرعی قوانین کے خلاف ۲۵-۲۶ جنوری کو ہونے والے احتجاجی مظاہرہ میں شرکت کرنے کے لیے ممبئی کا رخ کیا۔ سنیُکت شیتکری کامگار مورچہ کے ذریعہ اس احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد دہلی کی سرحدوں پر احتجاج کر رہے کسانوں کے ساتھ یکجہتی ظاہر کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ اس کے لیے مہاراشٹر کے ۲۱ ضلعوں کے کسان ممبئی آئے ہیں، جنہیں آل انڈیا کسان سبھا کے ذریعہ جمع کیا گیا ہے۔
بھیما ناسک ضلع کے ڈنڈوری تعلقہ کے اپنے گاؤں، امبے وانی کی ۱۲-۱۵ خواتین میں شامل ہیں، جو ۲۳ جنوری کی صبح روانہ ہوئیں اور اگلے دن ممبئی پہنچی تھیں۔ ان میں سے تین کسان بیوہ ہیں۔
سُمن بومبلے کے شوہر کا انتقال ایک دہائی قبل ہو گیا تھا۔ ’’ان کی موت تکان اور تناؤ کے سبب ہوئی تھی،‘‘ سُمن بتاتی ہیں، جن کے شوہر، موتی رام کی عمر تب ۵۰ سال تھی۔ ’’ہم برسوں سے جنگل کی پانچ ایکڑ زمین پر کھیتی کر رہے ہیں۔ پھر بھی، یہ ابھی تک ہمارے نام پر نہیں ہے۔ جنگلات کے افسران ہمیں پریشان کرتے ہیں۔ میرے شوہر اس کی وجہ سے ہمیشہ تناؤ میں رہتے تھے۔‘‘ اُتّم کی طرح، موتی رام بھی کھیت پر کام کرتے وقت بیہوش ہوکر گرے تھے۔






