’’میں ان لوگوں کے لیے کھانا پکا رہی ہوں جو ہمیں یہاں لے کر آئے ہیں۔ میرے شوہر اینٹ بنانے میں ان کی مدد کر رہے ہیں،‘‘ اُروَشی کہتی ہیں، جن سے ہمارا سامنا حیدرآباد کی اینٹ بھٹیوں میں ہوا۔
ہمیں تقریباً ۶۱ سالہ دیگو دھروا اور تقریباً ۵۸ سالہ اُروَشی دھروا کو بھٹیوں میں دیکھ کر حیرانی ہوئی۔ یہ دونوں میاں بیوی مغربی اوڈیشہ کے بولانگیر ضلع کی بیل پاڑہ گرام پنچایت کے پنڈری جور گاؤں کے رہنے والے ہیں۔ یہ ملک کے غریب ترین گاؤوں میں سے ایک ہے۔
مغربی اوڈیشہ، جہاں سے میں بیس سال سے بڑے پیمانے پر رپورٹنگ کرتا رہا ہوں، یہاں کے لوگ ۵۰ سال سے زیادہ عرصے سے ہجرت کرتے رہے ہیں۔ یہ خطہ غریبی اور پالیسی کے نتائج کے علاوہ بھوک، بھوک کی وجہ سے ہونے والی اموات اور بچوں کی فروخت کی وجہ سے بدنام تھا۔
سال ۶۷۔۱۹۶۶ میں، قحط جیسی صورتحال نے لوگوں کو ہجرت کرنے پر مجبور کیا۔ ۹۰ کی دہائی میں، جب کالا ہانڈی، نوا پاڑہ، بولانگیر اور دیگر ضلعوں میں زبردست قحط پڑا تھا، تو دوبارہ لوگ یہاں سے ہجرت کرنے لگے تھے۔ اس وقت، ہم نے نوٹس کیا تھا کہ جو لوگ ہاتھ سے کام کر سکتے تھے وہ کام کی تلاش میں دوسری ریاستوں میں چلے گئے، جب کہ بزرگ لوگ گاؤوں میں رہے۔





