ناریل کے ۲۵ میٹر اونچے درخت سے نیچے کی طرف دیکھتے ہوئے ہمایوں شیخ ہندی میں آواز لگاتے ہیں، ’’ہٹ جاؤ! ورنہ آپ کو چوٹ لگ جائے گی۔‘‘
جب انہیں یقین ہو جاتا ہے کہ درخت کے نیچے اب کوئی نہیں ہے، تو وہ اپنے خمدار چاقو کو خوبصورتی سے گھماتے ہیں، اور اس طرح دھڑ، دھڑ کی آواز سے ناریل نیچے گرنے لگتے ہیں۔
چند ہی منٹوں میں کام مکمل ہو جاتا ہے اور وہ درخت سے واپس زمین پر اتر جاتے ہیں۔ چار منٹ کے اندر درخت پر چھڑنے اور نیچے اتر جانے کی ان کی یہ غیر معمولی رفتار اس لیے ممکن ہو پاتی ہے کیوں کہ ہمایوں روایتی ناریل توڑنے والوں کے برعکس، ایک میکنیکل متبادل استعمال کرتے ہیں، جسے ناریل کے درخت پر چڑھنے اور نیچے اترنے کے لیے بنایا گیا ہے۔
وہ جس آلہ کا استعمال کرتے ہیں وہ ایک جوڑی پیر سے ملتا جلتا ہے اور اس میں پیروں کو ٹکانے کے لیے جگہ بنی ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ایک لمبی رسی لگی ہوئی ہے، جو تنے کے گرد لپیٹ دی جاتی ہے۔ اس سے ہمایوں کو ناریل کے درختوں پر چڑھنے میں ایسی آسانی ہوتی ہے گویا وہ سیڑھیاں چڑھ رہے ہوں۔








