وہ اپنا انعام –ایک پیسہ کا چمکتا ہوا سکہ – لینے کے لیے اسٹیج پر چڑھے، جو انہیں منشی یعنی سینئر افسر سے ملنے والا تھا جس کے ماتحت کئی اسکول تھے۔ یہ ۱۹۳۹ کا پنجاب تھا، جب وہ صرف ۱۱ سال کے تھے اور بطور طالب علم انہوں نے تیسری کلاس میں ٹاپ کیا تھا۔ منشی نے ان کے سر پر ہاتھ رکھا اور شاباشی دیتے ہوئے بولا، کہو ’برطانیہ زندہ آباد، ہٹلر مردہ آباد‘۔نوجوان بھگت سنگھ– ان کے ہم نام عظیم انقلابی بھگت سنگھ نہیں – نے سامعین کی طرف رخ کیا اور تیز آواز میں کہا ’’برطانیہ مردہ آباد، ہندوستان زندہ آباد۔‘‘
ان کی اس نافرمانی کا فوری نتیجہ دیکھنے کو ملا۔منشی بابو نے اسی وقت انہیں پیٹنا شروع کر دیا، اور سمندر کے سرکاری ایلیمنٹری اسکول سے ان کا نام کاٹ دیا۔وہاں موجود دوسرے طلبہ نے حیرانگی بھری خاموشی کے ساتھ انہیں دیکھا، اور اس کے بعد وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔مقامی اسکولوں کی اتھارٹی – جسے آج کی زبان میں ہم بلاک ایجوکیشن آفیسر کہہ سکتے ہیں – نے پنجاب کے موجودہ ہوشیار پور ضلع کے ڈپٹی کمشنر کی منظوری سے ایک لیٹر جاری کیا، جس میں انہیں اسکول سے نکالے جانے کی تصدیق کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ 11 سال کی عمر میں یہ لڑکا ’خطرناک‘ اور ’باغی‘ ہے۔
اس کا ایک ہی مطلب تھا کہ اب بھگت سنگھ جھگیاں کے لیے اسکول کے تمام دروازے بند ہوچکے تھے، حالانکہ اس زمانے میں ارد گرد زیادہ اسکول بھی نہیں تھے۔ان کے والدین کے علاوہ کئی اور لوگوں نے بھی سرکاری حکام سے اپنے اس فیصلہ کو واپس لینے کی گزارش کی۔ ایک بارسوخ زمیندار، غلام مصطفی نے اپنی طرف سے بہت کوشش کی، لیکن برطانوی حکومت کافی ناراض تھی۔اس چھوٹے سے بچے نے ان کی عزت مٹی میں ملادی تھی۔بھگت سنگھ جھگیاں اس کے بعد زندگی بھر روایتی تعلیم سے محروم رہے۔
لیکن وہ تب بھی اس اسکول کے سب سے ہونہار طالب علم تھے، اور آج ۹۳ سال کی عمر میں بھی ہیں۔
ہوشیار پور ضلع کے رام گڑھ گاؤں میں اپنے گھر پر ہم سے بات کرتے ہوئے، وہ اس واقعہ کو یاد کرکے مسکراتے ہیں۔ یہ پوچھنے پر کہ کیا انہیں اس کاافسوس نہیں ہوا تھا، وہ جواب دیتے ہیں ’’میرا رد عمل بس یہی تھا کہ اب میں انگریزوں کے خلاف لڑائی میں شامل ہونے کے لیے آزاد ہوں۔‘‘












