سوہن سنگھ ٹیٹا ایک ایسے انسان ہیں جو لوگوں کی جان بچانے کے لیے ہمیشہ تیار رہتے ہیں، چاہے وہ زمین پر ہو یا پانی میں۔ بھولے چک گاؤں اور اس کے آس پاس کی سڑکوں پر، اپنی موٹر بائک پر سوار وہ اکثر کسی بھگوان جیسی شبیہ کی طرح دھوئیں یا گرد و غبار کے بادل سے باہر آتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ سبزیاں بیچنے کا کام کرتے ہیں، لیکن اس پورے علاقے میں وہ ایک ماہر غوطہ خور کے طور پر مشہور ہیں۔ پنجاب کے گرداس پور ضلع سے تعلق رکھنے والے سوہن، اکثر اپنے گاؤں کے قریب سے بہنے والی نہروں میں غوطہ لگا کر لوگوں کو بحفاظت باہر نکالتے ہیں۔
گزشتہ ۲۰ سالوں سے اس کام کو انجام دے رہے ۴۲ سالہ سوہن کہتے ہیں، ’’لوگوں کو ڈوبنے سے بچانا میرا کام نہیں ہے۔ پھر بھی، میں یہ کام کرتا ہوں۔‘‘ ان سالوں میں انہوں نے پانی سے بے شمار لاشیں باہر نکالی ہیں، جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سوہن کہتے ہیں، ’’آپ سوچتے ہیں کہ ’پانی تو زندگی ہے‘۔ لیکن میں نے ایک ہزار بار دیکھا ہے کہ یہ تو موت ہے۔‘‘
گرداس پور اور اس کے پڑوسی ضلع پٹھان کوٹ میں جب بھی کوئی آدمی نہر میں گرتا ہے، یا کسی کی لاش پانی سے نکالنی ہوتی ہے، تو سب سے پہلے سوہن کو ہی بلایا جاتا ہے۔ سوہن بتاتے ہیں کہ جب بھی ایسی کوئی کال آتی ہے تو وہ یہ جاننے کا انتظار نہیں کرتے کہ وہ آدمی حادثاتی طور پر وہاں پہنچا تھا یا خودکشی کرنے گیا تھا، بلکہ ’’مجھے جیسے ہی یہ خبر ملتی ہے کہ کوئی آدمی پانی میں گر گیا ہے، تو میں فوراً اس میں کود جاتا ہوں۔‘‘ لیکن اگر وہ آدمی مردہ حالت میں ملا تو، ’’میں چاہتا ہوں کہ اس کے رشتہ دار آخری بار اس کا چہرہ دیکھ سکیں۔‘‘ سوہن کی باتوں سے ہزاروں زندگیوں کے ضائع ہونے کا صدمہ صاف طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔
سوہن ہر مہینے ان نہروں سے کم از کم ۳-۲ لاشیں نکالتے ہیں۔ وہ اپنے تجربات کو فلسفیانہ انداز میں بتانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ مجھ سے کہتے ہیں، ’’زندگی ایک طوفان کی مانند ہے۔ یہ ایک ایسا دائرہ ہے جس کا آغاز و اختتام بیک وقت ہوتا ہے۔‘‘









