بالا بھائی چاوڑا (۵۷ سالہ) کے پاس گجرات کے سریندر نگر ضلع میں پانچ ایکڑ کھیت ہے۔ یہ زمین زرخیز ہے۔ سینچائی والی ہے۔ گزشتہ ۲۵ سالوں سے اس کا مالکانہ حق ان کے پاس ہے۔ لیکن، مسئلہ صرف ایک ہے۔ انہیں اپنے کھیتوں کے آس پاس سے گزرنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔
وہ اپنے ہاتھوں میں لیے ہوئے زرد، پھٹا پرانا زمین کا کاغذ دکھاتے ہیں، ’’میرے پاس اپنے مالکانہ حق کا ثبوت ہے۔ لیکن، اونچی ذات کے لوگوں نے [زمین پر] قبضہ جمایا ہوا ہے۔‘‘
بالا بھائی چمار برادری سے تعلق رکھنے والے ایک مزدور ہیں، جنہیں گجرات میں درج فہرست ذات کا درجہ حاصل ہے۔ وہ مدد کی فریاد لے کر کہاں کہاں نہیں گئے، لیکن سب نے انہیں واپس لوٹا دیا۔ وہ بتاتے ہیں، ’’میں بلا ناغہ ہر دن اپنی زمین پر جاتا ہوں۔ میں اسے دور سے دیکھتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ میری زندگی کیا سے کیا ہو سکتی تھی۔‘‘
گجرات کی تقسیم اراضی پالیسی کے تحت ۱۹۹۷ میں بالا بھائی کو دھرانگ دھرا تعلقہ کے بھرڑ گاؤں میں ایک کھیت الاٹ کیا گیا تھا۔ گجرات ایگریکلچرل لینڈز سیلنگ ایکٹ، ۱۹۶۰ (جس نے زرعی زمین پر مالکانہ حق کی حدود متعین کی تھیں) کے تحت زیر تحویل ’سرپلس لینڈ‘ (بچی ہوئی زمین) کو ’’مفاد عامہ‘‘ کے تحت نشان زد کیا گیا تھا۔
سرکاری ملکیت والی بنجر زمین کے ساتھ ساتھ تحویل میں لی گئی ان زمینوں (جنہیں سنتھانی زمین کے نام سے جانا جاتا ہے) کو ایسے لوگوں کے نام کیا جانا تھا، جنہیں ’’زرعی زمین کی ضرورت‘‘ تھی۔ ان میں کسانوں کی کوآپریٹو سوسائٹیز، بے زمین کسان، زرعی مزدور وغیرہ شامل تھے۔ اس میں درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل کے لوگوں کو ترجیح دی گئی تھی۔
کاغذ پر تو یہ اسکیم بہت ہی اچھی دکھائی دیتی ہے، لیکن زمینی حقیقت کچھ اور ہے۔
زمین پر مالکانہ حق پانے کے بعد، بالا بھائی نے اس پر کپاس، جوار اور باجرا کی کھیتی کرنے کا منصوبہ بنایا۔ انہوں نے کھیت میں ہی ایک چھوٹا سا گھر بنانے کے بارے میں بھی سوچا تھا، تاکہ وہ جہاں کام کریں وہیں پر رہ سکیں۔ اس وقت ۳۲ سال کی عمر میں ان کی ایک چھوٹی سی فیملی تھی، جس کے خوبصورت مستقبل کے لیے انہوں نے نہ جانے کتنے خواب دیکھے تھے۔ وہ بتاتے ہیں، ’’میرے تین چھوٹے بچے تھے۔ میں مزدوری کرتا تھا۔ مجھے لگا کہ کسی اور کے لیے پسینہ بہانے کے دن چلے گئے۔ میں نے سوچا تھا کہ اپنی زمین ہونے سے میں اپنی فیملی کو ایک اچھی زندگی دے پاؤں گا۔‘‘








