صاف آسمان اور کھلی ہوئی دھوپ میں ایک دن، ۳۹ سالہ سنیتا رانی تقریباً ۳۰ خواتین کے ایک گروپ سے بات کر رہی ہیں اور انہیں اپنے حقوق کے لیے بڑی تعداد میں گھروں سے باہر نکل کر غیر معینہ ہڑتال پر بیٹھنے کے لیے آمادہ کر رہی ہیں۔ ’’کام پکّا، نوکری کچی،‘‘ سنیتا آواز لگاتی ہیں۔ ’’نہیں چلے گی، نہیں چلے گی،‘‘ باقی عورتیں ان کے پیچھے آواز لگاتی ہیں۔
سونی پت شہر میں، دہلی-ہریانہ شاہراہ سے ملحق سول اسپتال کے باہر گھاس کے ایک میدان میں سرخ کپڑوں میں – ہریانہ میں یہی کپڑا ان کی وردی ہے – یہ عورتیں ایک دری پر بیٹھی ہیں اور سنیتا کو سن رہی ہیں، جو انہیں ان مصیبوں کی فہرست سنا رہی ہیں جسے وہ سبھی اچھی طرح سے جانتی ہیں۔
یہ تمام خواتین آشا کارکن ہیں، یعنی منظور شدہ سماجی صحت کارکن، جو قومی دیہی صحت مشن (این آر ایچ ایم) کی پیدل سپاہی ہیں اور ہندوستان کی دیہی آبادی کو ملک کے صحت عامّہ کے نظام سے جوڑنے والی ایک اہم کڑی ہے۔ ملک بھر میں ۱۰ لاکھ سے زیادہ آشا کارکن ہیں، اور وہ اکثر صحت سے متعلق کسی بھی ضرورت اور ناگہانی حالات میں دستیاب پہلی طبی خدمات مہیا کرنے والی کارکن ہیں۔
انہیں ۱۲ بنیادی اور ۶۰ سے زیادہ ذیلی کام کرنے پڑتے ہیں، جس میں غذائیت، صفائی اور میعادی امراض کے بارے میں معلومات فراہم کرنے سے لے کر تپ دق کے مریضوں کے علاج کی نگرانی اور صحت سے متعلق اشاریوں کا ریکارڈ رکھنا شامل ہے۔
وہ یہ سبھی اور اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ کاموں کو انجام دیتی ہیں۔ لیکن، سنیتا کہتی ہیں، ’’ان سب کے پیچھے وہ چیز چھوٹ جاتی ہے، جس کے لیے ہم واقعی میں تربیت یافتہ ہیں – یعنی زچہ اور بچہ کی صحت کے اعداد و شمار میں بہتری لانا۔‘‘ سنیتا سونی پت ضلع کے ناتھوپور گاؤں میں کام کرتی ہیں، اور گاؤں کی ان تین آشا کارکنوں میں سے ایک ہیں جن کے اوپر ۲۹۵۳ لوگوں پر نظر رکھنے کی ذمہ داری ہے۔








