’’کوئی بھی مجھے کام پر رکھنے کو تیار نہیں تھا۔ میں نے تمام احتیاطی تدابیر اپنائیں، لیکن وہ مجھے اپنے گھروں میں داخل نہیں ہونے دیتے تھے،‘‘ مہاراشٹر کے لاتور ضلع کی ایک گھریلو کارکن، ۶۸ سالہ زاہدہ بی سید کہتی ہیں۔ ’’میں نے یہ کپڑا [کپڑے کا ماسک] کبھی نہیں اتارا، اور تمام ضابطوں پر عمل کیا جیسے کہ دوری بناکر رکھنا۔‘‘
اپریل ۲۰۲۰ میں، کووڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن کے دوران، زاہدہ بی جن پانچ کنبوں کے لیے کام کرتی تھیں ان میں سے چار نے انہیں چلے جانے کو کہہ دیا۔ ’’میرے پاس صرف ایک فیملی بچی اور انہوں نے میرے اوپر حد سے زیادہ کام تھوپ دیا۔‘‘
زاہدہ بی ۳۰ سال سے زیادہ عرصے سے گھریلو کارکن کے طور پر کام کر رہی ہیں – جن میں سے زیادہ تر وقت انہوں نے اُن گھروں میں برتن دھونے اور فرش صاف کرنے کا کام کیا جنہوں نے پچھلے سال اپنے دروازے اُن کے لیے بند کر دیے۔ ان کا ماننا ہے کہ جہاں وہ کام کر رہی تھیں وہ لوگ مارچ ۲۰۲۰ میں دہلی کی ایک مسجد میں تبلیغی جماعت کے اجتماع، جو کووڈ- ۱۹ کا ہاٹ اسپاٹ بن گیا تھا، کو لیکر پیدا ہوئے تنازع سے متاثر ہو گئے تھے۔ ’’لوگوں سے مسلمانوں سے دور رہنے کی جو باتیں کی جا رہی تھیں، وہ آگ کی طرح پھیل گئی،‘‘ وہ یاد کرتی ہیں۔ ’’میرے داماد نے کہا کہ میری نوکری جماعت کی وجہ سے گئی ہے۔ لیکن اس سے میرا کیا تعلق ہے؟‘‘
تب زاہدہ بی کی آمدنی ۵۰۰۰ روپے ماہانہ سے گھٹ کر ۱۰۰۰ روپے ہو گئی تھی۔ ’’جن کنبوں نے مجھے چلے جانے کے لیے کہا تھا، کیا وہ مجھے دوبارہ کبھی بلائیں گے؟‘‘ وہ پوچھتی ہیں۔ ’’میں نے ان کے لیے کئی برسوں تک کام کیا اور پھر، اچانک ہی انہوں نے مجھے چھوڑ دیا اور دوسری عورتوں کو کام پر رکھ لیا۔‘‘
پچھلے ایک سال میں ان کی حالت میں مشکل سے کوئی تبدیلی آئی ہے۔ ’’اب تو اور بیکار ہو گئے ہیں،‘‘ زاہدہ بی کہتی ہیں۔ مارچ ۲۰۲۱ میں، وہ تین گھروں میں کام کرکے ۳۰۰۰ روپے ماہانہ کما رہی تھیں۔ لیکن ان کے دو آجروں نے اپریل میں انہیں چلے جانے کو کہہ دیا، جب پورے مہاراشٹر میں کووڈ- ۱۹ کی دوسری لہر پھیلنے لگی تھی۔ ’’انہوں نے کہا کہ میں جھگیوں میں رہتی ہوں اور وہاں ہم ضابطوں [حفاظتی طور طریقوں] پر عمل نہیں کرتے ہیں۔‘‘
اس لیے اب، وہ اپنے واحد آجر سے تب تک صرف ۷۰۰ روپے ماہانہ کمائیں گی جب تک کہ انہیں مزید کام نہیں مل جاتا۔





