’’گھرو جاؤ رجّ کے، کام ہوگا گجّ کے [اگر آپ گھر سے پیٹ بھر کھانا کھاکر نکلتے ہیں، تو آپ اپنے مشن کو ضرور پورا کریں گے]۔‘‘
شاہجہاں پور میں احتجاجی مظاہرہ کر رہے کسانوں کے لیے لنگر چلانے والے بلاول سنگھ کا یہی عام فلسفہ ہے۔ ’’اس حکومت کو بھوکے احتجاجیوں سے نمٹنے کی عادت ہے،‘‘ وہ پنجابی میں بولتے ہوئے آگے کہتے ہیں۔ ’’دیکھتے ہیں کہ وہ پیٹ بھر کر کھانے والے احتجاجیوں سے کیسے نمٹتے ہیں۔‘‘
راجستھان کے گنگا نگر ضلع کے ۴۱ آر بی گاؤں کے ۳۰ سالہ کسان بلاول اور ان کے چچیرے بھائی، ۳۲ سالہ رشوندر سنگھ، دہلی کے جنوب میں تقریباً ۱۲۰ کلومیٹر دور، راجستھان- ہریانہ سرحد پر شاہجہاں پور میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہزاروں احتجاجیوں میں شامل ہیں۔
یہ دہلی اور اس کے ارد گرد کے مقامات میں سے ایک ہے جہاں لاکھوں کسان اور ان کی کئی یونین، خاص طور سے ہریانہ، پنجاب اور راجستھان سے، ۲۶ نومبر سے دھرنا اور احتجاج کر رہے ہیں اور مرکزی حکومت کے ذریعہ اس سال سمتبر میں پاس کیے گئے تین نئے زرعی قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ان قوانین کو سب سے پہلے ۵ جون، ۲۰۲۰ کو آرڈیننس کی شکل میں پاس کیا گیا تھا، پھر ۱۴ ستمبر کو پارلیمنٹ میں زرعی بل کے طور پر پیش کیا گیا اور اسی ماہ کی ۲۰ تاریخ کو موجودہ حکومت کے ذریعہ جلد بازی میں قانون میں بدل دیا گیا۔ کسان ان قوانین کو اپنے معاش کے لیے تباہ کن سمجھ رہے ہیں کیوں کہ یہ قوانین بڑے کارپوریٹ کو کسانوں اور زراعت پر زیادہ اختیار فراہم کرتے ہیں۔ یہ کم از کم امدادی قیمت، زرعی پیداوار کی مارکیٹنگ کمیٹیوں، ریاست کے ذریعہ خرید وغیرہ سمیت، کاشتکاروں کی مدد کرنے والی بنیادی شکلوں کو بھی کمزور کرتے ہیں۔








