’’میں تیز دوڑ کے جاؤں گا اور کونو میں بس جاؤں گا۔‘‘
یہ چنٹو نام کے ایک چیتے کی کہی ہوئی بات ہے جو ہر اُس شخص کے لیے ہے جو اس کی بات کو پڑھنے یا سننے کا خواہش مند ہے، کیوں کہ یہ ایک پوسٹر پر لکھا ہوا ہے۔
یہ پوسٹر مدھیہ پردیش کے محکمہ جنگلات کے ذریعہ چھ مہینے پہلے لگایا گیا تھا، جو محکمہ کے اعلیٰ افسران کے کہنے پر سرکاری حکم نامہ کے طور پر لگایا گیا ہے۔ یہ فرمان کونو نیشنل پارک کے آس پاس بسنے والے اُس سبھی لوگوں کے لیے ہے، جنہیں پوسٹر پر نظر آ رہا دوستانہ ’چنٹو‘ چیتا یہ بتانا چاہتا ہے کہ اس پارک کو وہ اپنا گھر بنانا چاہتا ہے۔
جس گھر کی بات چنٹو کہہ رہا ہے، اسے ۵۰ اصلی افریقی چیتے آپس میں شیئر کریں گے۔ البتہ، اس گھر میں یہاں باگچا گاؤں میں رہنے والے اُن ۵۵۶ انسانوں کی کوئی شراکت داری نہیں ہوگی، کیوں کہ انہیں بے گھر یا اجاڑ کر کہیں اور بسایا جائے گا۔ اس نقل مکانی سے ان جنگلوں سے تقریباً اٹوٹ طریقے سے جڑے لوگوں اور بنیادی طور پر سہریا آدیواسیوں کی زندگی اور روزگار پر ہولناک بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
بہرحال، صرف ایسے سیاح جو کثیر رقم خرچ کرکے باہر سے منگائے گئے ان چیتوں کو دیکھنے کے لیے سفاری پر جائیں گے، وہی اس جنگل کو نیشنل پارک کا درجہ دینے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لیکن، اس پروجیکٹ سے مقامی لوگوں کی زندگی اور مفادات کو شامل نہیں کیا جانا افسوسناک ہے۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔
پوسٹر اور کارٹونوں میں اس ’پیاری‘ دھبے والی بڑی بلی کو دیکھ کر بہت سے مقامی لوگ پس و پیش میں مبتلا ہیں۔ اس وائلڈ لائف سینکچوری سے تقریباً ۲۰ کلومیٹر دور پیرا جاٹو نام کی چھوٹی بستی میں رہنے والے آٹھ سال کے ستین جاٹو نے اپنے والد سے پوچھا، ’’کیا یہ کوئی بکری ہے؟‘‘ اس کے چھوٹے بھائی انورودھ نے بیچ میں اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ یہ ضرور ایک قسم کا کتا ہوگا۔














