جولائی ۲۰۲۱ میں جب ان کے گھر میں سیلاب کا پانی داخل ہو گیا تھا، تب شبھانگی کامبلے کو اپنا سامان چھوڑ کر بھاگنا پڑا تھا۔ حالانکہ، بھاگنے سے پہلے انہوں نے وہاں سے دو نوٹ بک اٹھا لیے تھے۔
کچھ ہفتوں اور مہینوں بعد، انہی دو نوٹ بک (ہر ایک میں ۱۷۲ صفحات) کی مدد سے وہ کئی لوگوں کی زندگیاں بچانے میں کامیاب رہیں۔
یہ وہ وقت تھا، جب مہاراشٹر کے کولہاپور ضلع میں واقع ان کا گاؤں ارجن واڑ پہلے سے ہی کورونا وبائی مرض جیسی ایک ایک آفت سے مقابلہ کر رہا تھا۔ اور، شبھانگی کی نوٹ بک میں گاؤں میں کورونا وائرس سے جڑی تمام اطلاعات – جیسے متاثرہ لوگوں کے موبائل نمبر، انکا پتہ، فیملی کے دیگر ممبران کی تفصیل، ان کی میڈیکل ہسٹری، ہیلتھ ریکارڈ وغیرہ کو بڑی صفائی کے ساتھ درج کیا گیا تھا۔
یہ ۳۳ سالہ آشا کارکن، جو ہندوستان کے قومی دیہی صحت مشن، ۲۰۰۵ کے تحت لاکھوں خواتین طبی ملازمین میں سے ایک ہیں، کہتی ہیں، ’’[گاؤں میں کیے گئے آر ٹی پی سی آر ٹیسٹ کی] رپورٹ سب سے پہلے میرے پاس آتی تھی۔‘‘ اپنی نوٹ بک کی مدد سے انہوں نے گاؤں میں ایک ایسے کورونا سے متاثرہ شخص کا پتہ لگایا جسے شیرول تعلقہ میں ایک سیلاب راحت کیمپ میں لے جایا گیا تھا، جس سے کم از کم ۵۰۰۰ دیگر لوگوں کے وائرس کی چپیٹ میں آنے کا خطرہ منڈلانے لگا تھا۔
وہ کہتی ہیں، ’’سیلاب کے سبب، کئی لوگوں کے فون بند ہو گئے تھے یا نیٹ ورک ایریا سے باہر ہو گئے تھے۔‘‘ شبھانگی، جو وہاں سے ۱۵ کلومیٹر دور تیرواڑ میں اپنے میکے میں تھیں، انہوں نے اپنی نوٹ بک سے کھنگال کر کیمپ میں کچھ دیگر لوگوں کے فون نمبر تلاش کیے۔ ’’میں کسی طرح مریض سے رابطہ کرنے میں کامیاب رہی۔‘‘






















