صبیح سویرے سنیتا ساہو نے تھوڑی کوشش کے بعد کروٹ بدلی اور پوچھا، ’’بچے کہاں ہیں؟‘‘ ان کے شوہر بودھ رام نے کہا کہ وہ سوئے ہوئے ہیں۔ یہ سن کر انہوں نے چین کی سانس لی۔ وہ رات بھر سو نہیں پائی تھیں، جس کی وجہ سے بودھ رام تھوڑے فکرمند تھے۔ وہ اکثر مذاق میں ان سے کہتے تھے کہ تم تو کبھی بھی، کہیں بھی سو سکتی ہو۔
لیکن، ۲۸ اپریل کی رات کو جب بودھ رام اور سنیتا کے تینوں بیٹوں (جن کی عمر ۱۲ سے ۲۰ سال کے درمیان ہے) نے باری باری سے، گرم سرسوں کے تیل سے اپنی ماں کے ہاتھ، پیر، سر اور پیٹ کی مالش کرنی شروع کی، تو وہ درد سے کراہ اٹھیں۔ وہ بڑبڑائیں، ’’مجھے کچھ ہو رہا ہے۔‘‘ یہی بودھ رام کی اُس صبح کی یادیں ہیں۔
ساہو فیملی لکھنؤ ضلع کے کھرگاپور جاگیر گاؤں میں ایک جھونپڑی میں رہتی ہے۔ تقریباً دو دہائی قبل وہ چھتیس گڑھ کے بیمیترا ضلع میں واقع اپنے گاؤں، مارو سے آکر چِنہٹ بلاک کے اِس گاؤں میں بس گئے تھے۔ ۴۲ سالہ بودھ رام تعمیراتی مقامات پر راج مستری کا کام کرتے ہیں؛ ۳۹ سالہ سنیتا خاتون خانہ تھیں۔
اپریل میں کووڈ۔۱۹ کی دوسری لہر نے اتر پردیش میں کافی تباہی مچائی تھی۔ ۲۴ اپریل کو ریاست میں اس وبائی مرض کے ۳۸۰۵۵ نئے معاملے درج کیے گئے – جو کہ ایک دن میں اب تک درج کی گئی سب سے بڑی تعداد تھی، حالانکہ اس بات کو لیکر تشویش ظاہر کی جا رہی تھی کہ یوپی میں یہ تعداد کم کرکے بتائی گئی ہے۔
لکھنؤ کے رام منوہر لوہیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (آر ایم ایل آئی ایم ایس) کے شعبہ کمیونٹی میڈیسن کی اسسٹنٹ پروفیسر، رشمی کماری کہتی ہیں، ’’کووڈ کے اصل معاملوں کی تعداد چار سے پانچ گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔ معاملے کم اس لیے درج ہو رہے ہیں کیوں کہ رسوائی کی وجہ سے لوگ ٹیسٹ کرانے کے لیے آگے نہیں آ رہے ہیں۔ صحیح تصویر کا پتہ لگانا مشکل ہے۔‘‘
ساہو فیملی کو اس بات کا پختہ یقین ہے کہ سنیتا کووڈ۔۱۹ سے متاثر نہیں تھیں کیوں کہ یہ فیملی میں کسی اور کو نہیں تھا۔ حالانکہ، سنیتا بخار، بدن درد، اور ڈائریا میں مبتلا تھیں – اور یہی کورونا وائرس کی بھی علامتیں ہیں۔












