اس کام میں غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔
امن کی آنکھوں میں یکسوئی نظر آ رہی ہے، اور وہ اپنے ہاتھوں سے بڑے احتیاط کے ساتھ ایک باریک سوئی گاہک کے کان میں ڈالتے ہیں۔ سوئی کے نکیلے سرے پر روئی لپیٹی ہوئی ہے۔ دھیرے دھیرے کام کرتے ہوئے وہ اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ جلد پر خراش نہ آئے یا کان کے پردے کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ وہ آپ کو یاد دلاتے ہیں، ’’صرف کان کا میل نکالنا ہے۔‘‘
وہ سایہ دار پیپل کے ایک بڑے درخت کے نیچے بیٹھ کر پاری سے بات کر رہے ہیں۔ ان کے بغل میں اوزاروں کا ایک کالا تھیلا ہے، جس میں ایک سلائی (سوئی جیسا اوزار)، چمٹی اور روئی رکھی ہوئی ہے۔ تھیلے میں جڑی بوٹیوں سے بنے ایک ادویاتی تیل کی شیشی بھی رکھی ہے، جسے وہ کان کی صفائی کے لیے بنایا گیا اپنے خاندان کا ایک خفیہ نسخہ بتاتے ہیں۔
’’سلائی سے میل باہر نکالتے ہیں اور چمٹی سے کھینچ لیتے ہیں۔‘‘ ادویاتی تیل تب کام آتا ہے، جب کان میں کوئی گانٹھ بن گئی ہو۔ وہ کہتے ہیں، ’’ہم انفیکشن کا علاج نہیں کرتے، ہم کان سے صرف میل نکالتے ہیں یا کان میں کھجلی ہو تو اسے دیکھتے ہیں۔‘‘ ان کے مطابق، خارش انفیکشن میں بدل سکتی ہے، اگر لوگ اسے غلط طریقے سے صاف کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور کان کو نقصان پہنچا لیتے ہیں۔










