بڑکا راجپور سے تقریباً چار کلومیٹر شمال میں بکسر ضلع کا تلک رائے کا ہٹّا گاؤں ہے، جہاں ۳۴۰ گھر ہیں، جن میں زیادہ تر بے زمین کنبے رہتے ہیں۔ یہاں، کچھ گھروں کے باہر ہینڈ پمپ کا گندا پانی بہہ رہا ہے۔
سرکردہ محقق، ڈاکٹر کمار بتاتے ہیں کہ سال ۲۰۱۳-۱۴ میں مہاویر کینسر سنستھان کے ذریعے اس گاؤں میں کیے گئے ایک مطالعہ سے پتہ چلا کہ زیر زمین پانی میں آرسینک کی مقدار بہت زیادہ ہے، خاص کر تلک رائے کا ہٹّا کے مغربی حصوں میں۔ گاؤں میں آرسینکوسس کی عام علامتیں ’’بڑے پیمانے پر دیکھی گئیں‘‘: ۲۸ فیصد لوگوں کی ہتھیلیوں اور تلووں میں ہائپرکیراٹوسس (زخم) تھا، ۳۱ فیصد لوگوں کی جلد پر دھبے یا میلانوسس تھا، ۵۷ فیصد لوگوں کو لیور (جگر) سے متعلق بیماریاں تھیں، ۸۶ فیصد لوگوں کو گیس کی بیماری تھی، اور ۹ فیصد عورتوں کو حیض میں بے ترتیبی کا مسئلہ درپیش تھا۔
کرن دیوی کے شوہر اس گاؤں میں بچھو کا ڈیرہ کے نام سے مشہور اینٹ اور مٹی سے بنے گھروں کی ایک الگ بستی میں رہتے تھے۔ وہ بتاتی ہیں، ’’پیٹ میں کئی مہینوں تک درد رہنے کے بعد ۲۰۱۶ میں ان کا انتقال ہو گیا۔‘‘ فیملی انہیں سمری اور بکسر شہر کے ڈاکٹروں کے پاس لے گئی تھی، اور انہیں مختلف قسم کی دوائیں دی گئی تھیں۔ ۵۰ سالہ کرن بتاتی ہیں، ’’انہوں نے کہا تھا کہ یہ تپ دق ہے۔ یا جگر کا کینسر۔‘‘ ان کے پاس زمین کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہے، لیکن ان کے شوہر کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ یومیہ مزدوری کا کام تھا۔
سال ۲۰۱۸ سے ہی کرن دیوی کی ہتھیلیوں پر سخت اور بد رنگ دھبے ہیں، جوکہ آرسینک کی زہر آلودگی کی علامت ہے۔ ’’مجھے معلوم ہے کہ یہ پانی کی وجہ سے ہو رہا ہے، لیکن اگر میں خود اپنے پمپ کا استعمال نہیں کر سکتی تو پھر کہاں جاؤں؟‘‘ ان کا ہینڈ پمپ ان کے گھر کے بالکل باہر ہے، ایک چھوٹے سے احاطہ کے اُس پار جہاں ایک بیل اپنا چارہ چبا رہا ہے۔
وہ بتاتی ہیں کہ مانسون کے بعد (نومبر سے مئی تک) پانی کی کوالٹی بہت خراب ہو جاتی ہے، جب اس کا ذائقہ پانی کی چائے جیسا ہو جاتا ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’’ہم کھانے کے لیے بھی جدوجہد کر رہے ہیں۔ میں کسی ڈاکٹر کو دکھانے یا جانچ کرانے کے لیے پٹنہ کا سفر بھلا کیسے کر سکتی ہوں؟‘‘ ان کی ہتیھلیوں میں کافی کھجلی ہوتی ہے، اور جب وہ صابن کو چھوتی ہیں یا جانور کے باڑے سے دن کا گوبر اٹھاتی ہیں، تو اس میں کافی جلن ہوتی ہے۔
رمونی کہتی ہیں، ’’عورت اور پانی کا قریبی رشتہ ہے، کیوں کہ دونوں کو گھروں میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس لیے اگر پانی خراب ہے، تو یہ فطری بات ہے کہ عورتوں پر اس کا سب سے زیادہ اثر پڑے گا۔‘‘ اوما شنکر کہتے ہیں کہ کینسر کی بدنامی بہت سے لوگوں، خاص کر عورتوں کو علاج کرانے سے دور رکھتی ہے اور اسی کی وجہ سے کافی دیر ہو جاتی ہے۔
انہوں نے مجھے بتایا کہ رمونی کے سینے کے کینسر کا پتہ چلنے کے فوراً بعد گاؤں کی آنگن واڑی نے پانی کے معیار کو لیکر ایک بیداری مہم چلائی۔ مکھیا منتخب ہونے پر وہ اس قسم کی مزید بیداری مہم چلانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’’ہر کوئی اپنے گھروں کے لیے آر او کا پانی خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ اور ہر عورت آسانی سے اسپتال نہیں جا سکتی۔ ہم اس کا کوئی اور طریقہ تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔‘‘
پاری اور کاؤنٹر میڈیا ٹرسٹ کی جانب سے دیہی ہندوستان کی بلوغت حاصل کر چکی لڑکیوں اور نوجوان عورتوں پر ملگ گیر رپورٹنگ کا پروجیکٹ پاپولیشن فاؤنڈیشن آف انڈیا کے مالی تعاون سے ایک پہل کا حصہ ہے، تاکہ عام لوگوں کی آوازوں اور ان کی زندگی کے تجربات کے توسط سے ان اہم لیکن حاشیہ پر پڑے گروہوں کی حالت کا پتا لگایا جا سکے۔
اس مضمون کو شائع کرنا چاہتے ہیں؟ براہِ کرم [email protected] کو لکھیں اور اس کی ایک کاپی[email protected] کو بھیج دیں۔
مترجم: محمد قمر تبریز