پہلی منزل پر موجود کمرے میں تالا لگا ہے اور وہاں خاموشی چھائی ہوئی ہے، حالانکہ اس کے بند ہونے میں ابھی وقت ہے۔ بغل میں ٹِن اور لکڑی سے بنی جھونپڑی میں بھی کوئی نہیں ہے، صرف کرسی، میز، لوہے کی بنچ، آئرن سیرپ اور فولک ایسڈ کی ٹیبلیٹ سے بھرا کارٹن، اور ردّیوں کا انبار لگا ہوا ہے۔ ایک پرانی زنگ آلودہ نام والی تختی بھی وہاں پڑی ہے، جب کہ بند کمرے والی عمارت کے داخلی دروازہ پر لگی نئی تختی پر لکھا ہے: ’گورنمینٹ نیو ٹائپ پرائمریری ہیلتھ سنٹر، شابری محلہ، ڈل ایس جی آر [سرینگر]‘۔
یہاں سے کشتی کے ذریعے ۱۰ منٹ کی دوری پر نظیر احمد بھٹ کا ’کلینک‘ ہے، جو عام طور پر کھلا رہتا ہے – اور کافی بھیڑ رہتی ہے۔ سردیوں کی ایک دوپہر کو وہ اُس وقت اپنے پاس آنے والے آخری کسٹمر- مریض سے مل رہے ہیں (مزید مریضوں کو دیکھنے کے لیے وہ دوبارہ شام کو یہاں آئیں گے)۔ لکڑیوں کے ستونوں پر کھڑی یہ اُن کی لکڑی سے بنی چھوٹی سی دکان ہے، جس میں انجیکشن لگانے کے لیے ایک چھوٹا سا خانہ بنا ہوا ہے۔ اس دکان کے باہر آویزاں بورڈ پر لکھا ہے ’بھٹ میڈیکیٹ کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ‘۔
تقریباً ۶۰ سال کی ایک بزرگ خاتون، حفیظہ ڈار یہاں ایک بینچ پر بیٹھی ہوئی انتظار کر رہی ہیں۔ وہ کشتی کے ذریعے یہاں نظیر ’ڈاکٹر‘ سے ملنے آئی ہیں، ان کا محلہ ۱۰ منٹ کی دوری پر واقع ہے۔ ’’میری ساس کو [ذیابیطس کا] انجیکشن لگنا ہے اور نظیر صاحب ہمارے گھر پر یہ انجیکشن بڑے آرام سے لگا دیتے ہیں کیوں کہ میری ساس اتنی ضعیف ہو چکی ہیں کہ یہاں آ نہیں سکتیں،‘‘ وہ ان کو دعائیں دیتے ہوئے کہتی ہیں۔ ’’ہمیں وہاں [این ٹی پی ایچ سی میں] کوئی ڈاکٹر نظر نہیں آتا،‘‘ حفیظہ کہتی ہیں جو ایک خاتونِ خانہ اور کاشتکار ہیں؛ ان کے شوہر ایک کسان ہیں اور ڈل جھیل میں شکارہ بھی چلاتے ہیں۔ ’’وہ صرف بچوں کو پولیو کی دوا پلاتے ہیں اور دن میں ۴ بجے کے بعد وہاں کوئی نہیں ہوتا۔‘‘
ڈل جھیل کے جزیروں پر رہنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ کشمیر میں اگست ۲۰۱۹ سے لگاتار کرفیو اور لاک ڈاؤن کے بعد، تقریباً اِن دو سالوں میں اس نئے قسم کے ابتدائی طبی مرکز یا نیو ٹائپ پرائمری ہیلتھ سنٹر (این ٹی پی ایچ سی) میں انہوں نے کسی ڈاکٹر کو نہیں دیکھا ہے۔ ’’کچھ سال پہلے یہاں ایک ڈاکٹر ہوا کرتا تھا جس نے کافی اچھے کام کیے، لیکن اس کا تبادلہ کر دیا گیا۔ ۲۰۱۹ کے بعد سے ہم نے یہاں کسی دوسرے ڈاکٹر کو نہیں دیکھا ہے،‘‘ ۴۰ سالہ محمد رفیق مَلّا کہتے ہیں، جو قریب میں ہی رہتے ہیں اور سیاحوں کے لیے بطور فوٹوگرافر کام کرتے ہیں۔ ’’وہ [ملازمین] یہاں باقاعدگی سے نہیں آتے اور پھر پورے وقت تک رکتے بھی نہیں۔‘‘
اسسٹنٹ ڈائرکٹر پلاننگ برائے چیف میڈیکل آفیسر، سرینگر کے دفتر کے مطابق، تمام ’نیو ٹائپ پی ایچ سی‘ (کشمیر میں ’اپ گریڈ کیے گئے‘ ذیلی مراکز) میں کم از کم ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر بطور میڈیکل افسر، ایک ماہر دواسازی (فارماسسٹ)، ایک ایف ایم پی ایچ ڈبلیو (کثیرالمقاصد خاتون طبی کارکن) اور ایک نرسنگ اردلی ہونا چاہیے، جن میں سے سبھی کو ڈائریکٹریٹ آف ہیلتھ سروسز کی جانب سے ملازمت حاصل ہونی چاہیے۔










