چترا سے ملنے سے تین سال پہلے متھوراجا کی دونوں آنکھوں کی روشنی پوری طرح سے چلی گئی تھی۔ ان کے دماغ پر وہ وقت اور تاریخ کندہ ہے – پونگل سے ایک رات قبل، ۱۳ جنوری ۲۰۱۳ کو شام کے ۷ بج رہے تھے۔ وہ لگاتار بڑھتی ہوئی اس بے چینی کو یاد کرتے ہیں جب انہیں یہ احساس ہوا کہ اب وہ کچھ بھی نہیں دیکھ سکتے۔
اگلے کچھ سال ان کے لیے پریشان کر دینے والے تھے۔ وہ زیادہ تر گھر کے اندر ہی رہتے تھے۔ انہیں غصہ، بے چینی کے ساتھ ہر وقت رونا آتا تھا اور ان کے من میں خودکشی کرنے کا خیال بھی آتا تھا۔ لیکن، وہ دور کسی طرح گزر گیا۔ چترا سے ملنے کے وقت، وہ ۲۳ سال کے تھے اور ان کی آنکھوں کی روشنی جا چکی تھی۔ وہ آہستہ سے کہتے ہیں، وہ خود کو ’’ایک لاش کی طرح محسوس کرتے تھے‘‘ اور چترا نے ہی متھوراجا کو زندگی کا ایک نیا پہلو دیا۔
لگاتار رونما ہونے والے حادثات نے متھوراجا کی ان کی آنکھوں کی روشنی پوری طرح سے جانے سے پہلے ہی ان کی آنکھیں خراب کر دی تھیں۔ جب وہ سات سال کے تھے، تب وہ اور ان کی بہن مدورئی کے اپنے کھیت میں گلاب کے پودے لگا رہے تھے، جہاں بازار میں فروخت کرنے کے لیے پھول اگائے جاتے ہیں۔ وہ ایک چھوٹی سی بھول تھی – ان کی بہن نے ان کے ہاتھوں سے ایک اکھاڑا ہوا پودا ٹھیک سے نہیں پکڑا اور پودے کا تنا ان کے چہرے پر جا لگا اور کانٹے ان کی آنکھوں میں چبھ گئے۔
چھ سرجری کے بعد انہیں بائیں آنکھ سے کچھ کچھ نظر آنا شروع ہوا۔ ان کی فیملی کو اپنی تین سینٹ (صفر اعشاریہ صفر ۳ ایکڑ) زمین بیچنی پڑی اور یہ لوگ قرض میں ڈوب گئے۔ کچھ وقت بعد، جب ان کا بائیک سے ایک ایکسیڈنٹ ہوا، تو ان کی اس آنکھ میں ایک اور چوٹ لگ گئی جس سے وہ دیکھ پاتے تھے۔ تب متھوراجا کے لیے اسکول اور پڑھائی، دونوں ہی چنوتی بن گئے – وہ بلیک بورڈ یا ان پر سفید حروف کو ٹھیک سے نہیں دیکھ پاتے تھے۔ لیکن انہوں نے کسی طرح اپنے ٹیچروں کی مدد سے ۱۰ویں کلاس تک کی پڑھائی مکمل کی۔
متھوراجا کی دنیا میں تب پوری طرح سے اندھیرا چھا گیا، جب جنوری ۲۰۱۳ میں اپنے گھر کے سامنے کی سڑک پر ہی ان کا سر لوہے کی چھڑ سے ٹکرا گیا۔ چترا سے ملنے کے بعد ان کی زندگی میں روشنی اور محبت لوٹ آئی۔