’’ہورررر…
ہے ہے ہے ہے…ہو…ہے ہے ہے ہے…ہو…‘‘
سورج نے ڈراؤنی سی آواز نکالی اور دیکھتے ہی دیکھتے باغ سے بھاگتے پرندوں نے آسمان بھر دیا۔ سورج ناشپاتی کے اس باغ کی نگرانی کرتا ہے، اور باغ میں پھل کھانے کی نیت سے آنے والے پرندوں کو ڈراؤنی آوازیں نکال کر یا کمان (غلیل) کی مدد سے روڑہ (مٹی کا ڈھیلا) پھینک کر بھگاتا ہے۔
پنجاب کے شمال مغربی حصے میں واقع ترن تارن ضلع کے سرحدی علاقے کا پٹّی شہر اپنے باغوں کے لیے مشہور ہے۔ ناشپاتی اور آڑو کے باغوں کی راکھی (نگرانی) کرنے کے لیے ہر سال مہاجر مزدور بلائے جاتے ہیں۔ ان کا کام پھلوں کو پرندوں سے بچانا ہوتا ہے، جو کسی بھی وقت باغ میں دھاوا بول سکتے ہیں اور پھلوں کو چونچ مار کر برباد کر سکتے ہیں۔ باغوں کی نگرانی کرنے والے سورج جیسے ان مزدوروں کو راکھے (نگرانی کرنے والا یا رکھوالا) کہا جاتا ہے۔
محض ۱۵ سال کا سورج بہردار تقریباً دو ایکڑ کے باغ میں لگے ناشپاتی کے تقریباً ۱۴۴ درختوں کا واحد رکھوالا ہے، جس کے لیے اپریل سے اگست تک چلنے والے پھل کے سیزن میں اسے ۸ ہزار روپے ماہانہ دیے جاتے ہیں۔
سورج کے مطابق، ’’جب پودوں میں پھول لگنے شروع ہو جاتے ہیں، تو ان باغوں کے مالک اپنے اپنے باغ ٹھیکہ پر دے دیتے ہیں۔ ان باغوں کو ٹھیکہ پر لینے والے ٹھیکہ دار ان کی راکھی کرنے کے لیے مزدوروں کو کام پر رکھتے ہیں۔‘‘ یہ مزدور اکثر اتر پردیش اور بہار سے آنے والے مہاجر مزدور ہوتے ہیں۔









