’’مجھے ٹریکٹر چلانا آتا ہے،‘‘ سربجیت کور کہتی ہیں۔ اس لیے وہ تقریباً دو مہینے قبل، اپنی فیملی کے سفید ٹریکٹر کو تقریباً ۴۸۰ کلومیٹر چلاتے ہوئے پنجاب کے جَسرَور گاؤں سے ہریانہ- دہلی سرحد پر واقع، سنگھو پہنچی تھیں۔ ’’میں اپنے دَم پر آئی تھی،‘‘ وہ کہتی ہیں، جب کہ ان کے گاؤں کے دیگر لوگ اپنی کسان یونین کے ذریعہ انتظام کی گئی ٹرالیوں سے احتجاج کے مقام پر آئے تھے۔
جسرور سے روانہ ہونے سے پہلے ۴۰ سالہ سربجیت، ستمبر ۲۰۲۰ میں پارلیمنٹ سے پاس کیے گئے زرعی قوانین کے بارے میں گفتگو اور مخالفت کر رہی تھیں۔ وہ امرتسر ضلع کی اجنالا تحصیل میں واقع اپنے ۲۱۶۹ کی آبادی والے گاؤں میں ان قوانین کے خلاف گھر گھر جاکر لوگوں کو بیدار کر رہی تھیں۔ پھر، ۲۵ نومبر کو وہ، جسرور اور ارد گرد کے گاؤوں سے روانہ ہونے والے ۱۴ ٹریکٹر ٹرالیوں کے ایک قافلہ میں شامل ہو گئیں، جس کا انتظام جمہوری کسان سبھا (۲۰۰ سے زیادہ کسان تنظیموں کے کل ہند پلیٹ فارم، آل انڈیا کسان سنگھرش کوآرڈینیشن کمیٹی سے منسلک) نے کیا تھا۔ وہ صبح سویرے روانہ ہوئے اور ۲۷ نومبر کو سنگھو پہنچ گئے تھے۔
اور اب سربجیت، ۲۶ جنوری کو یومِ جمہوریہ پر اپنی نوعیت کی پہلی ٹریکٹر پریڈ میں شرکت کرنے کے لیے تیار ہیں، جو ہریانہ کے سونی پت کے پاس سنگھو سے تین کلومیٹر شمال میں واقع کُنڈلی سرحد سے شروع ہونے والی ہے۔ ’’میں اس میں اپنے ٹریکٹر کے ساتھ شامل ہونے جا رہی ہوں،‘‘ وہ کہتی ہیں۔
ہریانہ میں سنگھو اور ٹیکری، اور اتر پردیش میں غازی پور، ان بنیادی مقامات میں شامل ہیں، جہاں لاکھوں کسان اور متعدد زرعی تنظیمیں ۲۶ نومبر، ۲۰۲۰ سے تین نئے زرعی قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ کر رہی ہیں۔ ’’جب تک ان قوانین کو منسوخ نہیں کیا جاتا، نہ تو بوڑھے اور نہ ہی نوجوان، مرد یا خواتین یہاں سے واپس نہیں جانے والے ہیں،‘‘ سربجیت کہتی ہیں۔
’’یہاں آنے کے لیے مجھے کسی نے نہیں کہا تھا۔ کسی نے مجھے یہاں ’پکڑ‘ نہیں رکھا ہے،‘‘ احتجاجی مقام پر دیگر لوگوں کے ٹریکٹروں کی قطار میں اپنے ٹریکٹر کے پاس کھڑی ہوئی وہ کہتی ہیں۔ ’’احتجاج کرنے کے لیے بہت سے لوگ میرے ٹریکٹر پر بیٹھ کر یہاں تک آئے ہیں۔ تو کیا آپ یہ کہیں گے کہ میں انہیں یہاں لائی ہوں؟‘‘ ہندوستان کے چیف جسٹس کے ذریعہ (۱۱ جنوری کو) کیے گئے تبصرہ کہ عورتوں اور بزرگوں کو احتجاج کے مقام پر ’پکڑ‘ کر رکھا جا رہا ہے اور انہیں واپس جانے کے لیے ’راضی‘ کیا جانا چاہیے، کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وہ سوال کرتی ہیں۔






