شمشیر سنگھ کہتے ہیں، ’’ہم نے اپنے ٹریکٹر کو ترنگے سے سجایا ہے، کیونکہ ہم اپنے ملک سے پیار کرتے ہیں۔‘‘ انہوں نے اپنے ٹریکٹر کو ہندوستانی پرچم کے تین رنگوں کے ربن، غباروں اور پھولوں سے مزین کیا ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں، ’’کاشتکاری ہمیں مادر وطن کی طرح عزیز ہے۔ ہم مہینوں زمین کاشت کرتے ہیں، اور فصلوں کی دیکھ بھال بالکل اسی طرح کرتے ہیں جس طرح ہماری مائیں ہماری دیکھ بھال کرتی ہیں۔ اسی خیال کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہم نے اپنے ٹریکٹر کو دھرتی ماں کی طرح سجایا ہے۔‘‘
دہلی میں احتجاجی مقامات پر اور اس کے آس پاس کسان اس موقع کے لیے مختلف موضوعات (تھیمز) پر اپنے ٹریکٹروں کو تیار کر رہے ہیں۔ وہ اس ریلی کو دارالحکومت میں سالانہ یوم جمہوریہ پریڈ (جس میں مختلف ریاستوں اور موضوعات کی نمائندگی کرنے والے قافلے شامل ہوتے ہیں) کی طرح رنگین اور معنی خیز بنانا چاہتے ہیں۔ پھولوں، جھنڈوں اور ٹیبلوز سے لیس ٹریکٹروں کو ایک نئی شکل ملی ہے۔ کسانوں کی انفرادی کوششوں کے ساتھ ساتھ کسان یونین کی طرف سے مقرر کردہ ٹیمیں گزشتہ چند دنوں سے اس تگ و دو میں لگی ہوئی ہیں کہ ٹریکٹر ۲۶ جنوری کے لیے وقت پر تیار ہو جائیں۔
شمشیر بتاتے ہیں، ’’گورے ننگل میں اپنے گھر سے [ٹریکٹر] ڈرائیو کر کے یہاں تک پہنچنے میں مجھے دو دن کا وقت لگا ہے۔‘‘ وہ پنجاب کے امرتسر ضلع کے اپنے گاؤں کے ۲۰ دیگر کسانوں کے ساتھ ہریانہ-دہلی سرحد پر واقع ٹکری پہنچے ہیں۔ ان کا مقصد زرعی قوانین کو منسوخ کرنے والے کسانوں کے مطالبات کا اعادہ کرنے کے لیے پریڈ میں شامل ہونا ہے۔




