رخسانہ خاتون کو لگا تھا کہ اب انہیں اپنی فیملی کا پیٹ بھرنے کے لیے زیادہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ نومبر ۲۰۲۰ کا مہینہ تھا اور تقریباً دو سال کے اندر تیسری بار کوشش کرنے کے بعد، انہیں ابھی ابھی راشن کارڈ ملا ہی تھا کہ وبائی مرض والے سال کا سب سے برا دور شروع ہو گیا۔
یہ قومی غذائی تحفظ قانون (این ایف ایس اے)، ۲۰۱۳ کے تحت ایک ’ترجیحی گھریلو‘ راشن کارڈ تھا، جس کے لیے اہلیت رکھنے والے مستفیدین کی نشاندہی ریاستی حکومتیں کرتی ہیں۔
اس میں ان کے گاؤں والے گھر کا پتہ درج تھا، جہاں وہ اُس وقت رہ رہی تھیں۔ ان کا گاؤں حال ہی میں بہار کے دربھنگہ ضلع میں ایک میونسپل کونسل کے علاقے میں شامل کر لیا گیا تھا۔ اور آخرکار، رخسانہ کو اپنی سات رکنی فیملی کے لیے سبسڈی والا راشن مل ہی گیا۔
اس کے بعد، جب وہ اگست ۲۰۲۱ میں واپس دہلی گئے، تو ایک بار پھر فیملی کو اپنے قانونی حق کا اناج حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرنی پڑی۔
مرکزی حکومت کی وَن نیشن، وَن راشن کارڈ (او این او آر سی) اسکیم کے تحت، این ایف ایس اے کے مستفیدین، جنہیں ’ترجیحی گھروں‘ اور ’خط افلاس کے نیچے‘ والے زمرے میں رکھا گیا ہے، وہ کسی بھی سستی قیمت کی دکان سے اناج کا اپنا کوٹہ لینے کے حقدار ہیں۔ ان دکانوں کو آدھار کارڈ سے جڑی بایو میٹرکس تصدیق کا استعمال کرکے، عوامی تقسیم کے نظام (پی ڈی ایس) کے تحت راشن تقسیم کرنے کے لیے لائسنس دیا گیا ہے۔ لیکن رخسانہ جب بھی اپنے ماہانہ کوٹے کے راشن کے لیے، مغربی دہلی کے شادی پور مین مارکیٹ علاقے میں نزدیک کی سستی قیمت والی دکان پر جاتی تھیں، تو الیکٹرانک پوائنٹ آف سیل (ای پی او ایس) مشین میں لکھا آتا تھا: ’آئی ایم پی ڈی ایس میں راشن کارڈ نہیں ملا‘۔
جب کہ مرکزی حکومت کے ذریعے پی ڈی ایس کے تحت تقسیم کے لیے، ریاستوں کو اناج دیا جاتا ہے۔ عوامی تقسیم کے نظام کا مربوط انتظام (آئی ایم پی ڈی ایس) سال ۲۰۱۸ میں قائم کیا گیا تھا، تاکہ اہل مہاجر مزدور او این او آر سی اسکیم کے تحت ملک میں کہیں سے بھی اپنا راشن حاصل کر سکیں۔














