اتوار کا دن ہے اور صبح کے ساڑھے ۱۰ بجے ہیں۔ ہنی کام کے لیے تیار ہو رہی ہیں۔ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہوکر، وہ احتیاط سے اسکارلیٹ لپسٹک لگاتی ہیں۔ ’’یہ میرے سوٹ کے ساتھ اچھی طرح میل کھائے گی،‘‘ وہ کہتی ہیں اور اپنی سات سال کی بیٹی کو کھلانے کے لیے بھاگتی ہیں۔ ڈریسنگ ٹیبل پر کچھ ماسک اور ایک جوڑی ایئرفون لٹک رہا ہے۔ کاسمیٹکس اور میک اَپ کے سامان میز کے اوپر بکھرے ہوئے ہیں، جب کہ آئینہ میں کمرے کے ایک کونے میں لٹ رہی دیوی دیوتاؤں اور رشتہ داروں کی تصویریں دکھائی دے رہی ہیں۔
ہنی (بدلا ہوا نام) نئی دہلی کے منگول پوری کی ایک بستی میں واقع اپنے ایک کمرہ کے گھر سے تقریباً ۷-۸ کلومیٹر دور، ایک ہوٹل میں موجود گاہک کے پاس جانے کے لیے تیار ہو رہی ہیں۔ وہ تقریباً ۳۲ سال کی ہیں اور پیشہ سے جسم فروش (سیکس ورکر) ہیں، جو راجدھانی کے نانگ لوئی جاٹ علاقے میں کام کرتی ہیں۔ وہ بنیادی طور پر ہریانہ کی رہنے والی ہیں۔ ’’میں ۱۰ سال پہلے آئی تھی اور اب یہیں کی ہوں۔ لیکن میری زندگی دہلی آنے کے بعد سے بدقسمتی کا ایک سلسلہ رہا ہے۔‘‘
کس قسم کی بدقسمتی؟
’’چار اسقاط تو بہت بڑی بات ہے! وہ میرے لیے تھے، جب مجھے کھانا کھلانے، میری دیکھ بھال کرنے اور مجھے اسپتال لے جانے والا کوئی نہیں تھا،‘‘ ہنی مصنوعی ہنسی کے ساتھ کہتی ہیں، یہ اشارہ کرتے ہوئے کہ وہ اپنے دَم پر ایک لمبا سفر طے کر چکی ہیں۔
’’یہی وجہ تھی کہ مجھے اس کام میں آنا پڑا۔ میرے پاس کھانے اور اپنے بچے کو کھلانے کے لیے پیسے نہیں تھے، جو کہ ابھی بھی میرے اندر تھا۔ میں پانچویں بار حاملہ ہوئی تھی۔ میرے شوہر نے مجھے چھوڑ دیا جب میں صرف دو مہینے کی حاملہ تھی۔ میری بیماری سے پیدا شدہ واقعات کے ایک سلسلہ کے بعد، میرے مالک نے مجھے پلاسٹک کے ڈبے بنانے والی اس فیکٹری سے نکال دیا جس میں، میں کام کرتی تھی۔ میں وہاں ۱۰ ہزار روپے مہینہ کماتی تھی،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔
ہنی کے والدین نے ہریانہ میں ۱۶ سال کی عمر میں ان کی شادی کر دی تھی۔ وہ اور ان کے شوہر کچھ سال وہاں رہے – جہاں وہ ایک ڈرائیور کے طور پر کام کرتا تھا۔ جب وہ تقریباً ۲۲ سال کی تھیں، تب وہ دونوں دہلی چلے آئے۔ لیکن ان کا شرابی شوہر اکثر غائب رہنے لگا۔ ’’وہ کئی مہینوں کے لیے چلا جاتا۔ کہاں؟ مجھے نہیں معلوم۔ وہ اب بھی ایسا کرتا ہے اور کبھی نہیں بتاتا ہے۔ بس دیگر عورتوں کے ساتھ دور چلا جاتا ہے اور صرف تبھی واپس لوٹتا ہے جب اس کے پاس پیسے نہیں ہوتے۔ وہ ایک فوڈ سروس ڈلیوری ایجنٹ کے طور پر کام کرتا ہے اور زیادہ تر خود پر خرچ کرتا ہے۔ میرا چار بار اسقاط حمل ہونے کا یہی سبب تھا۔ وہ میرے لیے نہ تو ضروری دوائیں لیکر آتا تھا اور نہ ہی تغذئی کھانا۔ میں بہت کمزوری محسوس کرتی تھی،‘‘ وہ کہتی ہیں۔







