انارالاسلام جب بھی اپنی زمین پر کام کرنے جاتے ہیں، انہیں بین الاقوامی سرحد کو پار کرنا پڑتا ہے۔ اس سے پہلے انہیں تفصیلی طور طریقوں پر عمل کرنا اور سکیورٹی جانچ سے گزرنا پڑتا ہے۔ انہیں اپنی شناخت سے متعلق کوئی ثبوت جمع کرانا پڑتا ہے (وہ اپنا ووٹر آئی ڈی کارڈ لیکر چلتے ہیں)، رجسٹر میں دستخط کرنا ہوتا ہے اور اپنے پورے جسم کی جانچ پڑتال کروانی پڑتی ہے۔ وہ کاشتکاری سے متعلق جو بھی آلہ لیکر جاتے ہیں، اس کی جانچ ہوتی ہے۔ اور اُس دن اگر وہ اپنے ساتھ کسی گائے کو لیکر جا رہے ہیں، تو اس کی تصویروں کی ہارڈ کاپی بھی جمع کروانی ہوتی ہے۔
’’دو سے زیادہ گائے کی [ایک بار میں] اجازت نہیں ہے،‘‘ انارُل کہتے ہیں۔ ’’واپسی کے وقت مجھے دوبارہ دستخط کرنا پڑتا ہے، جس کے بعد میرے کاغذات لوٹا دیے جاتے ہیں۔ اگر کسی کے پاس شناخت کا کوئی ثبوت (آئی ڈی پروف) نہیں ہے، تو اسے وہاں سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔‘‘
انارالاسلام – یہاں پر سبھی لوگ انہیں بابل کے نام سے جانتے ہیں – اپنی فیملی کے ساتھ میگھالیہ کے جنوب مغربی گارو ہلز ضلع کے باغیچہ گاؤں میں رہتے ہیں۔ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تقریباً ۴۱۴۰ کلومیٹر لمبی سرحد ہے، جو کہ دنیا کی پانچویں سب سے لمبی سرحد ہے، جس کا تقریباً ۴۴۳ کلومیٹر علاقہ اس ریاست کی سرحد کے ساتھ لگا ہوا ہے۔ میگھالیہ سے ملحق سرحد پر خاردار تاروں سے باڑ لگائی گئی ہے اور کنکریٹ سے بنی ہے۔
باڑ لگانے کا کام ۱۹۸۰ کی دہائی کے آس پاس شروع ہوا – حالانکہ صدیوں سے مہاجرت اس خطہ کی معیشت اور دیہی معاش کا حصہ رہی ہے۔ برصغیر کی تقسیم اور بعد میں بنگلہ دیش کی تخلیق نے ان سرگرمیوں پر روک لگا دی۔ دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ کے ایک حصہ کے طور پر، باڑ سے ملحق ۱۵۰ گز کا فاصلہ، ایک قسم کا ’بفر ژون‘ برقرار رکھا گیا ہے۔
۴۷ سالہ انارالاسلام کو یہ چیز وراثت میں ملی ہے۔ سات سال کی عمر میں انہوں نے اسکول جانا چھوڑ دیا تھا اور ہل چلانے میں اپنے والد کی مدد کرنے لگے تھے۔ ان کے تین بھائیوں کو بھی وراثت میں زمین کا حصہ ملا ہے، جس پر وہ یا تو خود کھیتی کرتے ہیں یا کسی اور کو پٹّہ پر دے دیتے ہیں (اور ان کی چار بہنیں خاتونِ خانہ ہیں)۔









