مدورئی میں ہمارے گھر کے سامنے ایک لیمپ پوسٹ ہے جس کے ساتھ میری کئی یادگار بات چیت ہے۔ گلی کے اس بلب سے میرا ایک خاص رشتہ ہے۔ میرے گھر میں کئی سالوں تک بجلی نہیں لگی تھی، حتیٰ کہ میں نے اپنی اسکولی تعلیم مکمل کر لی۔ سال ۲۰۰۶ میں، آخرکار جب بجلی کا کنکشن ملا، تو اُس وقت ہم آٹھ بائی آٹھ فٹ کے ایک گھر میں رہتے تھے۔ اس میں صرف ایک ہی کمرہ تھا، جس کے اندر ہم پانچ لوگ رہتے تھے۔ ان حالات نے مجھے اُس اسٹریٹ لائٹ کے قریب تر کر دیا۔
بچپن میں ہمارا گھر اکثر و بیشتر بدلتا رہا – ایک چھوٹی جھونپڑی سے کچا مکان، پھر ایک کرایے کا کمرہ، اور اب ۲۰ بائی ۲۰ فٹ کا ایک گھر جس میں ہم لوگ اس وقت رہ رہے ہیں۔ اسے بنانے کے لیے میرے ماں باپ نے ۱۲ سالوں تک ایک ایک اینٹ جوڑی۔ جی ہاں، انہوں نے ایک راج مستری کو تو کام پر رکھا تھا لیکن اسے بنانے میں خود اپنی جی توڑ محنت لگائی، اور ابھی یہ پوری طرح مکمل بھی نہیں ہوا تھا کہ ہم اس میں منتقل ہو گئے۔ ہمارے تمام گھر اُس لیمپ پوسٹ سے قریب یا اس کے دائرہ کے اندر ہی تھے۔ میں نے اسی کی روشنی میں بیٹھ کر چی گویرا، نیپولین، سجاتا اور دیگر شخصیات کی کتابیں پڑھیں۔
آج بھی، جب میں یہ کہانی لکھ رہا ہوں تو وہی اسٹریٹ لائٹ اس کی گواہ ہے۔






























