’’اگر ہم نے کام کرنا بند کر دیا، تو پورا ملک اداس ہو جائے گا۔‘‘
بابو لال کی یہ بات ان کے اگلے بیان سے سجھ میں آتی ہے، ’’کسی کو بھی کرکٹ کھیلنے کاموقع نہیں ملے گا۔‘‘
لال اور سفید رنگ کی کرکٹ بال، جسے بلے باز اور گیند باز پسند کرتے ہیں اور اس سے ڈرتے بھی ہیں اور جس پر لاکھوں ناظرین اپنی نظریں گڑائے رہتے ہیں، چمڑے سے بنی ہوتی ہیں، جو اتر پردیش کے میرٹھ کی ایک بستی، شوبھا پور میں واقع چمڑے کے کارخانوں سے آتی ہے۔ یہ شہر کا واحد ایسا علاقہ ہے، جہاں چمڑے کا کام کرنے والے مزدور ایلم ٹیننگ (پھٹکری کے ذریعے چمڑے کی دباغت) کا استعمال کرکے کچی کھال کو سُکھاتے ہیں، جو کرکٹ کے گیند کی صنعت میں کچے مال کی طرح کام میں لایا جاتا ہے۔ دباغت کے ذریعے کچی کھال سے چمڑا تیار کیا جاتا ہے۔
بابو لال کہتے ہیں، ’’صرف پھٹکری سے دباغت کرنے پر ہی چمڑے کے مسام (مہین سوراخ) کھلتے ہیں اور رنگ آرام سے پاس ہو جاتا ہے۔‘‘ ان کی بات ساٹھ کی دہائی میں سنٹرل لیدر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی ایک تحقیق سے ثابت ہوتی ہے، جس کے مطابق پھٹکری سے دباغت (ٹیننگ) کا اثر یہ ہوتا ہے کہ گیند باز کے ہاتھ کا پسینہ یا پھر تھوک (لعاب) سے گیند کو چمکانے سے گیند خراب نہیں ہوتی ہے اور گیند باز کو میچ خراب کرنے سے روکتی ہے۔
بابو لال (۶۲ سالہ) شوبھا پور میں چمڑے کے اپنے کارخانہ کے ایک کونے میں پلاسٹک کی کرسی پر بیٹھے ہیں؛ چونے کی سفیدی سے فرش چمک رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’اس گاؤں میں ہمارے آباء و اجداد کم از کم دو سو سال سے یہ کام کر رہے ہیں۔‘‘




















