پانچ ماہ کی حاملہ، پلوی گاوِت تین گھنٹے سے زیادہ وقت سے کھاٹ (چارپائی) پر درد سے کراہ رہی تھیں۔ ان کی بھابھی، ۴۵ سالہ سپنا گریل تب ان کے ساتھ تھیں، جب پلوی کی بچہ دانی ان کی اندامِ نہانی سے نکل کر باہر آ گئی تھی، جس کے اندر پانچ مہینے کا ایک بے جان نر فیٹس (جنین) تھا۔ ناقابل برداشت درد، خون اور افراز کے فرش پر ٹپکنے کے سبب پلوی بیہوش ہو گئیں۔
۲۵ جولائی، ۲۰۱۹ کو دوپہر کے ۳ بجے کا وقت تھا۔ ستپوڑا پہاڑیوں میں ۵۵ بھیل کنبوں کی ایک بستی، ہینگلا پانی میں پلوی کی کچی جھونپڑی کے اوپر بارش کا پانی زور سے گر رہا تھا۔ شمال مغربی مہاراشٹر کے نندربار ضلع کے اس دور دراز حصے میں نہ تو پکی سڑکیں ہیں، نہ ہی موبائل نیٹ ورک۔ ایمرجنسی دعوت دے کر نہیں آتی۔ وہ کبھی بھی آ سکتی ہے،‘‘ پلوی کے شوہر گریش کہتے ہیں (اس اسٹوری میں سبھی نام بدل دیے گئے ہیں)۔ ’’نیٹ ورک کوریج کے بغیر، ہم ایمبولینس یا ڈاکٹر کو بھی کیسے بلا سکتے ہیں؟‘‘
’’میں گھبرا گیاتھا،‘‘ ۳۰ سالہ گریش اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں۔ ’’میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ مر جائے۔‘‘ صبح سویرے ۴ بجے، اندھیرے اور بارش میں، گریش اور ان کا ایک پڑوسی پلوی کو بانس اور چادر سے ایک عارضی اسٹریچر پر لاد کر ۱۰۵ کلومیٹر دور دھڑگاؤں کی طرف لے گئے۔
ہینگلا پانی بستی اکرانی تعلقہ کے تورن مال گرام پنچایت علاقہ میں ہے۔ تورن مال دیہی اسپتال قریب ہوتا، لیکن اس رات یہ سڑک محفوظ نہیں تھی۔ ننگے پاؤں (کیچڑ کی وجہ سے چپل پہننا مشکل ہوتا ہے)، گریش اور ان کے پڑوسی کو کیچڑ بھرے راستے سے جانے میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ پلاسٹک کی چادر سے ڈھکی پلوی درد سے کراہ رہی تھیں۔
تقریباً تین گھنٹے تک چڑھائی والے راستے پر چلنے کے بعد وہ تورن مال گھاٹ سڑک پر پہنچے۔ ’’تقریباً ۳۰ کلومیٹر کی چڑھائی ہے،‘‘ گریش بتاتے ہیں۔ وہاں سے، انہوں ایک ہزار روپے میں ایک جیپ کرایے پر لی، جو انہیں دھڑگاؤں تک لے گئی۔ سڑک پر پانچ گھنٹے تک سفر کرنے کے بعد، پلوی کو دھڑگاؤں کے ایک پرائیویٹ نرسنگ ہوم میں داخل کرایا گیا – دیہی اسپتال وہاں سے مزید ۱۰ کلومیٹر دور تھا۔ ’’مجھے جو پہلا دواخانہ [طبی مرکز] دکھایا دیا، میں اسے اسی میں لے گیا۔ یہ مہنگا تھا، لیکن کم از کم انہوں نے میری پلوی کو بچا لیا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ڈاکٹر نے ان سے ۳۰۰۰ روپے لیے اور اگلے دن چھٹی دے دی۔ ’’انہوں نے کہا بھاری مقدار میں خون بہنے سے اس کی موت ہو سکتی تھی،‘‘ گریش یاد کرتے ہیں۔


![میرا کاٹ [بچہ دانی] باہر نکلتا رہتا ہے](/_next/image?url=https%3A%2F%2Fproduction.ruralindiaonline.org%2Fuploads%2F01_Prolapsed_Uterus_JS_ea0207244e.jpg&w=1080&q=75)










