شیو پوجن پانڈے کو جب کسی دوسرے ٹیکسی ڈرائیور سے فون پر یہ اطلاع ملی، تو انہوں نے تتکال کوٹہ میں ٹرین کا ٹکٹ بُک کرایا اور اتر پردیش کے مرزاپور اسٹیشن سے انہوں نے ۴ جولائی کو ٹرین پکڑی۔
وہ اگلے دن ممبئی پہنچ گئے۔ لیکن، فوراً وہاں پہنچنے کے باوجود ۶۳ سالہ شیو پوجن پانڈے اپنی ٹیکسی کو فروخت ہونے سے بچا نہیں سکے۔
ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ لمیٹڈ کے ذریعے اسے نیلام کر دیا گیا تھا۔ یہ ان ۴۲ ٹیکسیوں میں سے ایک تھی، جو شہر کے ایئرپورٹ کے باہر وبائی مرض کے سبب لاک ڈاؤن کے فیصلہ کی وجہ سے بیکار کھڑی تھی۔ اور اس لیے شیو پوجن نے اپنے روزگار کا ذریعہ کھو دیا۔ وہ ۱۹۸۷ سے ٹیکسی چلا رہے تھے اور ۲۰۰۹ میں انہوں نے قرض لیکر اپنی (کالے پیلے رنگ کی) ماروتی اومنی کار خریدی تھی۔
دوپہر کے وقت سہار ایئرپورٹ کے پاس کے فٹ پاتھ پر کھڑے شیو پوجن غصے میں پوچھتے ہیں، ’’یہ سب کرکے انہیں کیا ملا؟ میں نے اپنی پوری زندگی اس کام میں گزار دی اور جو کچھ بھی ہمارے پاس تھوڑا بہت تھا، وہ ہم سے چھین رہے ہیں۔ اس مشکل وقت میں اس سے برا وہ ہمارے ساتھ کچھ بھی نہیں کر سکتے تھے۔‘‘
حال ہی میں سنجے مالی نے بھی اسی طرح کی صورتحال کا سامنا کیا۔ ان کی ویگن آر (کول کیب) مارچ ۲۰۲۰ سے ہی شمالی ممبئی کے مرول علاقہ کے انّا واڑی کی ایک پارکنگ میں کھڑی تھی، جو سہار انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے زیادہ دور نہیں ہے۔
۲۹ جون، ۲۰۲۱ کی رات ان کی کار کو پارکنگ کی جگہ سے ہٹا دیا گیا۔ اگلے دن انہیں ان کے ایک دوست نے یہ خبر دی۔ ۴۲ سالہ سنجے کہتے ہیں، ’’مجھے سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ کیا ہوا؟‘‘














