پونم، رانی کے بالوں کو دو حصوں میں تقسیم کرکے اس میں تیل لگاتی ہیں اور پھر اسے کس کر گوندھتے ہو چوٹی بناتی ہیں۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ چوٹی میں ربڑ بینڈ لگا پاتیں، ان کا بچہ اپنے دیگر بھائی بہن اور دوستوں کے ساتھ کھیلنے کے لیے دوڑتے ہوئے باہر نکل پڑتا ہے۔ پونم دیوی رات کا کھانا بناتے ہوئے اپنے بچوں کی اس حرکت پر کہتی ہیں، ’’دوست سب کے آبیتے، ای سب سانجھ ہوئیتے گھر سے بھاگ جائی چاہے کھیلا لیل (دوستوں کی آہٹ پاتے ہی، وہ سب شام کو کھیلنے کے لیے دوڑتے ہوئے باہر نکل پڑتے ہیں)۔‘‘ رانی ان کی دوسری بیٹی ہے، جس کی عمر ۸ سال ہے۔
پونم کی تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ لیکن ان کے چاروں بچوں میں سب سے چھوٹے ان کے بیٹے کا ہی برتھ سرٹیفکیٹ ان کے پاس موجود ہے۔ سرٹیفکیٹ کے بارے میں وہ کہتی ہیں، ’’ہمرا لاگ میں اِتّے پائی رہیتے ت بنوائیے لیتئے سب کے (اگر ہمارے پاس پیسہ ہوتا، تو ہم باقی تینوں کا بھی بنوا لیے ہوتے)۔‘‘
ان کے کچے مکان کے ارد گرد بانس کی لکڑی کی مدد سے باڑ لگایا گیا ہے، جیسا کہ عام طور پر دیہی بہار کے بہت سے گھروں کے ارد گرد دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان کے شوہر ۳۸ سالہ منوج دہاڑی مزدور ہیں۔ وہ بہار کے مدھوبنی ضلع کے بینی پٹّی بلاک میں واقع ایک تارا گاؤں میں رہتی ہیں۔ منوج محنت مزدوری کرکے مہینے میں ۶۰۰۰ روپے کے آس پاس کماتے ہیں۔
پونم (بدلا ہوا نام) بتاتی ہیں، ’’میری عمر اب ۲۵ سال سے کچھ ایک مہینے زیادہ ہو چکی ہے۔ میرا آدھار کارڈ میرے شوہر کے پاس ہے اور وہ ابھی گھر پر نہیں ہیں۔ میری شادی کس عمر میں ہوئی تھی، یہ مجھے ٹھیک ٹھیک یاد نہیں ہے۔‘‘ اگر ان کی عمر ابھی ۲۵ سال ہے، تو بہت ممکن ہے کہ شادی کے وقت ان کی عمر ۱۴ سال کے آس پاس رہی ہو۔
پونم کے تمام بچوں کی پیدائش گھر پر ہی ہوئی تھی۔ منوج کی چچی، ۵۷ سالہ شانتی دیوی کہتی ہیں، ’’ہر بار دائی نے مدد کی تھی۔ ہم نے اسپتال جانے کے بارے میں تبھی سوچا، جب لگا کہ حالت بگڑ رہی ہے۔‘‘ وہ ان کے (منوج اور پونم کے) گھر کے قریب اسی محلہ میں رہتی ہیں اور پونم کو اپنی بہو مانتی ہیں۔







